سوال:
آج کل بینک اسلامی مضاربت کے نام پر پیسے جمع کر رہے ہیں جس کا منافع فکس نہیں ہوتا، ہر مہینے منافع کبھی زیادہ اور کبھی کم آتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو بندہ یہ پیسے یتیموں کو دے سکتا ہے؟ کیونکہ بینک تو ویسے بھی یہ پیسے استعمال کرتا ہے اس پر پیسے کماتا ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی کیجیے۔
جواب: واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینکاری کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق غیر سودی بینکاری کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق معاملات سر انجام دے رہے ہیں، ان کے پاس سیونگ اکاؤنٹ (Saving Account) کھلوانا اور منافع حاصل کرنا شرعاً درست ہے، البتہ وقتاً فوقتاً دارالافتاء سے پوچھتے رہنا چاہیے تاکہ اگر کسی وقت اگر بینک کی طرف سے شرعی اصولوں سے انحراف سامنے آئے تو اس پر مطلع کیا جاسکے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی