resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ادارے کے پاس جمع ہونے والے ڈی ایس او پی (DSOP) فنڈ پر زکوٰۃ

(32404-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک مسئلے سے متعلق اپ کی رہنمائی درکار ہے، مسئلہ ڈی ایس او پی (DSOP) پہ زکوۃ کی کٹوتی کا ہے۔
میں ایک سرکاری ادارے میں کام کر رہا ہوں جس میں وہ ہماری ماہانہ تنخواہ سے ڈی ایس او پی اور اس کے علاوہ ہاؤس بلڈنگ سکیم کے تحت ہم سے رقم کی کٹوتی کرتے ہے، یہ پیسے جو ڈی ایس او پی اور ہاؤس بلڈنگ اسکیم کی تحت ہماری ماہانہ تنخواہ سے کاٹے جاتے ہیں، وہ ہمارے نام پر ادارے کے اکاؤنٹ میں موجود ہوتے ہیں اور ہمیں اس میں سے 80 فیصد تک پیسے نکلوانے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن وہ بھی اجازت ملنے سے مشروط ہوتی ہے۔
ان اکاؤنٹ سے میں جتنے بھی پیسے نکلواؤں تو اپنی تنخواہ سے مزید کٹوتی کروا کر وہ مجھے واپس جمع کرانے پڑتے ہیں، کیونکہ یہ پیسے مجھے اپنی نوکری مکمل کرنے پر ملیں گے، میرے ادارے کے پاس ان دونوں اسکیموں کے تحت میرے 21 لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں۔
آپ سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اس وقت اس 21 لاکھ روپے پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی یا اس رقم کی 80 فیصد پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی یا اپنی نوکری مکمل کرنے کے بعد یہ پیسے جب مجھے موصول ہو جائیں گے تو اس وقت زکوۃ ادا کرنی ہوگی؟ جزاک اللہ

جواب: واضح رہے کہ جو رقم ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے روک کر اپنے پاس جمع کرتا ہے، وہ رقم شرعاً ملازمین کی ملکیت میں نہیں آتی، بلکہ وہ رقم بدستور ادارے ہی کی ملکیت میں رہتی ہے، اس لیے اس رقم کی زکوٰۃ ملازم پر لازم نہیں ہوگی۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں مذکورہ رقم کی زکوٰۃ ادا کرنا آپ پر واجب نہیں ہے، البتہ جب یہ رقم آپ کو مل جائے اور اس وقت اگر آپ صاحب نصاب ہوئے تو دوسرے اموال کے ساتھ مل کر سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

العنایۃ: (232/10، ط:دار الكتب العلمية)
(الأجرة لا تجب بالعقد) ش: أي بنفس العقد، قال تاج الشريعة: أراد وجوب الأداء. أما نفس الوجوب فثبت بنفس العقد. وقال السغناقي: لا تجب، معناه لا يجب تسليمها وأداؤها بمجرد العقد، وقال صاحب العناية: هذا ليس بواضح؛ لأن نفي وجوب التسليم لا يستلزم نفي التملك كالمبيع، فإنه يملكه المشتري بمجرد العقد، ولا يجب تسليمه ما لم يقبض الثمن. والصواب أن يقال معناه لا يملك لأن محمدا - رحمه الله - ذكر في الجامع أن الأجرة لا تملك وما لم يملك لم يجب إيفاؤها.

فتاویٰ الھندیة: (175/1، ط: رشیدیة)
وأما سائر الدیون المقر بہا، فہی علی ثلاث مراتب عند أبی حنیفۃ : ضعیف وہو کل دین ملکہ بغیر فعلہ لا بدلا عن شيء نحو المیراث، أو بفعلہ لا بدلا عن شيء کالوصیۃ ، أو بفعلہ بدلاً عما لیس بمال کالمہر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدیۃ وبدل الکتابۃ لا زکوٰۃ فیہ عندہ حتی یقبض نصاباً ویحول علیہ الحول ۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat