resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غیر ملکی این جی اوز (NGO's) کو عطیات دینا

(36684-No)

سوال: غیر ملکی این جی اوز جو خیرات پر چلتی ہیں اور آپ ان کی سروس مفت میں حاصل کر سکتے ہیں جیسے IT کی مہارتیں سیکھنا وغیرہ، لیکن وہ غیر مسلم ہیں تو کیا ہم انہیں عطیہ کر سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ جو این جی اوز (NGO's) فلاحی کاموں کی آڑ میں باطل مذہب کی تبلیغ و ترویج کررہی ہو یا مسلم معاشرے میں بے دینی، فحاشی، عریانی یا فساد پھیلانے کی کوشش کر رہی ہو، ایسی تنظیم یا ادارے کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنا جائز نہیں ہے، البتہ جو تنظیمیں محض رفاہی مقصد مثلاً: تعلیم اور صحت وغیرہ کے لئے کام رہی ہوں اور ان کے پس پردہ مذموم مقاصد یا ایجنڈے کی تکمیل نہ ہو تو ان کو عطیات دیے جاسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القران الکريم:(سورة المائدة، الایة:2)
"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"


المصنف لابن أبي شیبة : (ما قالوا في الصدقة یعطي منها أهل الذمة، 513/6، رقم الحدیث:10410)
"عن إبراهیم بن مهاجر قال: سألت إبراهیم عن الصدقة علی غیر أهل الإسلام، فقال: أما الزکاة فلا، وأما إن شاء رجل أن یتصدق فلا بأس."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat