resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے فلیٹ کو کرایہ پر دینے کے بعد زکوۃ کا حکم

(38734-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرے پاس ایک فلیٹ ہے جو میں نے اس نیت سے خریدا تھا کہ اسے کچھ عرصہ اپنے پاس رکھوں گا اور پھر بیچ دوں گا۔ پچھلے سال تک میں اس کی کل قیمت، جو میں نے اسے خریدنے کے لیے ادا کی تھی، اس پر زکوٰۃ ادا کرتا رہا ہوں، لیکن پچھلے سال میں نے اسے کرائے پر دے دیا ہے اور اب مجھے اس سے ماہانہ کرایہ کی آمدنی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا جو کرایہ کی آمدنی مجھے ہو رہی ہے، سالانہ اس پر زکوٰۃ ادا کروں یا پھر جائیداد کی کل قیمت پر ہی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ جب کوئی جائیداد بیچنے کی نیت سے خریدی جائے تو وہ مالِ تجارت شمار ہوتی ہے، اور مالِ تجارت پر ہر سال اس کی بازاری قیمت (مارکیٹ ویلیو) کے مطابق زکوۃ ادا کرنا لازم ہوتا ہے، خریداری کے وقت ادا کی گئی قیمت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، چونکہ آپ فلیٹ کی کل ادا کی گئی قیمت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرتے رہے جو کہ درست نہیں تھا بلکہ ہر سال اس فلیٹ کی بازاری قیمت (مارکیٹ ویلیو) کے مطابق زکوۃ ادا کرنا لازم تھا، لہٰذا اس حساب سے اگر زکوۃ کی ادائیگی میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو حساب لگا کر کمی کی صورت میں باقی ماندہ زکوۃ دوبارہ ادا کر دیں۔
اور آئندہ کے لئے جائیداد کی کل قیمت پر نہیں بلکہ اس فلیٹ سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمدنی پر زکوٰۃ لازم ہوگی، بشرطیکہ وہ خود یا دیگر اموال زکوٰۃ کے ساتھ ملکر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تحفة الفقهاء: ( 1/ 271، ط: دار الكتب العلمية)
أصل الباب ما ذكرنا ‌أن ‌المعتبر ‌في ‌باب ‌التجارة ‌معنى ‌المالية والقيمة دون العين لأن سبب وجوب الزكاة هو المال النامي الفاضل عن الحاجة والنماء في مال التجارة بالاسترباح وذلك من حيث المالية إلا أن حقيقة النماء مما يتعذر اعتباره فأقيمت التجارة التي هي سبب النماء مع الحول الذي هو زمان النماء مقامه فمتى حال الحول على مال التجارة يكون ناميا فاضلا عن الحاجة تقديرا.

تبيين الحقائق: (1/ 256، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وينقسم كل واحد منهما إلى قسمين ... والفعلي ما يكون بإعداد العبد، وهو العمل بنية التجارة كالشراء والإجارة فإن اقترنت به النية صارت للتجارة، وإلا فلا، ولو نواه للتجارة بعد ذلك لا يكون للتجارة حتى يبيعه؛ لأن التجارة عمل فلا يتم بمجرد النية بخلاف ما إذا كان للتجارة ونواه للخدمة حيث يكون للخدمة بالنية؛ لأنها ترك العمل فيتم بها.

الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 96، ط: دار احياء التراث العربي)
" ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة " لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة " وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة " لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر.

البناية شرح الهداية: (3/ 309، ط: دار الكتب العلمية)
‌‌[حكم من اشترى جارية أو شيئا للتجارة ثم نواه للخدمة أو القنية]
م: (ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة) ش: لأن النية إذا كانت مقرونة بالعمل كانت واجبة الاعتبار؛ لأن النية لتمييز ما اختلف من أنواع الفعل فلا تتصور مع عدم الفعل، والتجارة عمل مخصوص، والاستخدام ترك ذلك العمل، ولما نواها للخدمة وترك التجارة فيها اتصل المنوي بالعمل الذي هو إمساك الاستخدام فيعتبر فتبطل الزكاة.

در المختار مع رد المحتار:( 2/ 286، ط: مصطفی الیابي الحلبي)
وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح،
(قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اه. وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اه

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat