سوال:
السلام علیکم! مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنے بچوں کی شادی کے لیے کئی سالوں سے سونا رکھا ہوا تھا تو کیا مجھ پر اس سونے کی زکاة دینا واجب ہے؟ جبکہ سونے کی مقدار نصاب کے بقدر یا اس سے زیادہ ہے، نیز اب جبکہ بچوں کی شادیاں بھی ہوگئیں اور سونا بھی ان کے حوالہ کر دیا ہےتو زکوة اگر اس وقت واجب تھی اور ادا نہیں کی تو اب کیا حکم ہے؟برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے سونا بچوں کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر مالکانہ قبضہ دے دیا تھا، اور اپنا مالکانہ تصرف اس میں باقی نہیں رکھا تھا تو اس سونے کی زکوٰۃ آپ پر واجب نہیں ہوگی، اور اس صورت میں نابالغ بچے پر بھی اس کے حصہ کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ نابالغ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
ہاں! بالغ بچوں میں سے ہر ایک کے حصہ میں جو سونا آرہا ہے، اگر یہ سونا نصاب (ساڑھے سات تولہ) کے برابر ہو تو ہر ایک پر اس کے حصہ کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
البتہ اگر آپ نے مذکورہ سونا تقسیم کرکے بچوں کی ملکیت میں نہیں دیا ہو، صرف ان کے نام پر کیا ہو تو اس صورت میں یہ سونا آپ کی ملکیت شمار ہوگا، اور بچوں کو دینے سے پہلے تک اس کی زکوٰۃ آپ پر واجب ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھدایة: (95/1، ط: دار احياء التراث العربي)
الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وَآتُوا الزَّكَاةَ} [البقرة: 43] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة. والمراد بالواجب الفرض۔
شرح المجلة لسلیم رستم باز: (رقم المادة: 57، 42/1، ط: اتحاد)
والتبرع لا یتم إلا بالقبض، فإذا وہب أحد لآخر شیئا لا تتم هبة إلا بقبضه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی