سوال:
عرض ہے کہ قریب میں ایک اہل باطل مسلک سے تعلق رکھنے والے کا گھر ہے اور اس نے اپنے ساتھ والے پلاٹ میں علم لگایا ہوا ہے اور اس کو عبادت گاہ بنایا ہوا ہے جہاں محرم کے مہینے میں وہ لوگ مجلس وغیرہ کا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں، ان دنوں وہ اپنے گھر اور ساتھ علم لگا ہوا پلاٹ بھی بیچنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ علم نکال کر لے جائے گا۔ میرا تعلق تبلیغی جماعت والوں سے ہے۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ علم والا پلاٹ خریدنے یا علم کو ہٹانے وغیرہ کا کوئی گناہ یا علم نکلوانے سے کسی قسم کا گناہ، شامت یا بد بخی وغیرہ سے میں تو متاثر نہیں ہوں گا؟
جواب: واضح رہے کہ جو عَلَم (جھنڈا) موجودہ زمانہ میں اہل باطل کا شعار سمجھا جاتا ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ چنانچہ مذکورہ پلاٹ خریدنے اور عَلَم (Flag) ہٹانے میں کسی قسم کا گناہ وغیرہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
شرح السير الكبير (ص1049):
وإذا أصاب المسلمون غنائم فكان فيها مصحف لا يدرى أن المكتوب فيه توراة أو إنجيل أو زبور أو كفر، فليس ينبغي للأمير أن يبيع ذلك من المشركين، مخافة أن يضلوا به فيكون هو المسبب لفتنتهم وإصرارهم على الكفر، وذلك لا رخصة فيه، وكذلك لا يبيع من مسلم. لأنه لا يأمن أن يبيع ذلك منهم أيضا فيضلوا بسببه. وكذلك لا يقسم بين الغانمين. لأنه لا يأمن على من وقع في سهمه أن يبيعه من المشركين فيضلوا بسببه. ولا ينبغي له أن يحرق بالنار ذلك أيضا. لأن من الجائز أن يكون فيه شيء من ذكر الله تعالى، ومما هو كلام الله، وفي إحراقه بالنار من الاستخفاف ما لا يخفى. .... قال مشايخنا: وكذلك الجواب فيما يجده المسلم من كتب الباطنة وأهل الأهواء المضلة فإنه يمنع من بيع ذلك مخافة أن يقع في يد أهل الضلالة فيفتتنوا به؛ وإنما يفعل به ما ذكرنا في هذا الموضع.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی