سوال:
میں نے آپ کی ویب سائٹ پر عورت کے ملازمت اور کاروبار سے متعلق فتاویٰ پڑھے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام عورت کے ملازمت کرنے کو حرام قرار دیتا ہے یا ناپسندیدہ قرار دیتا ہے؟ کیونکہ بہت سی صحابیات کاروبار کرتی تھیں، حضرت خدیجہؓ کا تو بہت بڑا کاروبار تھا اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کبھی نہیں روکا تو کیا اپنی تعلیم کے ساتھ ایک سافٹ ویئر کمپنی بنا کر اس میں صرف لڑکیوں کو ملازمت دینا، جبکہ میں پردے کی پابندی رکھوں اور کمپنی کے اوقات صبح سے دوپہر تک ہوں تو کیا یہ گناہ ہوگا؟
کیا آن لائن بچوں کو ٹیوشن پڑھانا یا کھانا بنا کر ویب سائٹ یا انسٹاگرام کے ذریعے بغیر چہرہ دکھائے فروخت کرنا، کیا یہ سب بھی گناہ ہے؟
میرے والدین اس کمائی کو بھی ناجائز کہتے ہیں، لیکن مفتی صاحب میں اپنے دین اسلام کے لیے، اپنے لیے، اپنے ملک کی بہتری کے لیے شریعت کی حدود میں رہ کر کچھ کرنا چاہتی ہوں، میں اپنی زندگی ضائع نہیں کرنا چاہتی جب اللہ نے مجھے عقل و شعور دیا ہے، میں اسے صحیح استعمال کر کے اللہ کی رضا چاہتی ہوں۔
براہِ کرم یہ نہ فرماییے گا کہ "اپنی اولاد کی تربیت کریں" یہ میں جانتی ہوں اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، میری پہلی ترجیح میرا گھر ہے، میں اس کے علاوہ کی بات کر رہی ہوں۔
جواب: شریعتِ مطہّرہ نے عورت کے معاشی سرگرمی اختیار کرنے کو مطلقاً حرام قرار نہیں دیا ہے، البتہ شریعت نے عورت کے لیے اصل ترجیح اس کے گھریلو اور خاندانی فرائض کو بنایا ہے، اور ازدواجی زندگی میں ذمّہ داریوں کی فطری تقسیم مقرر فرمائی ہے، اصولاً گھر سے باہر کی معاشی ذمّہ داریاں اور عورت کا نان و نفقہ شوہر کے ذمّے ہے، جبکہ عورت کا بنیادی دائرۂ کار گھر اور اس کا نظم و نسق قرار دیا گیا ہے، اسی تقسیم سے خاندانی نظام میں اعتدال اور سکون قائم رہتا ہے۔
اگر عورت کا کام بذاتِ خود جائز ہو، پردے کی مکمل پابندی ہو، مردوں کے ساتھ غیر ضروری اختلاط نہ ہو، گھریلو ذمّہ داریاں متاثر نہ ہوں اور کسی شرعی مفسدہ کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی معاشی سرگرمی/ کاروبار وغیرہ کرنا شرعاً ناجائز نہیں ہوگا۔
انہی شرائط کے تحت خواتین پر مشتمل سافٹ ویئر کمپنی قائم کرنا، آن لائن بچوں کو تعلیم دینا یا گھر میں تیار کردہ اشیاء کو ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے بغیر چہرہ دکھائے فروخت کرنے کی شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ بلا کسی شرعی عذر یا حقیقی مجبوری کے عورت کا گھر سے باہر ایسی ملازمت وغیرہ اختیار کرنا جس میں بے پردگی، مردوں سے اختلاط یا دیگر شرعی مفاسد لازم آتے ہوں، شرعاً درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الآیة: 34)
الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلٰی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۔۔۔۔الخ
و قوله تعالی: (الأحزاب، الآیة: 33)
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى۔۔۔۔الخ
وقوله تعالی: (الأحزاب، الآیة: 53)
وإذا سألتموهن متاعاً فاسألوهن من وراء حجاب ذلكم أطهر لقلوبكم وقلوبهن.۔۔۔۔الخ
بحوث في قضايا فقهية معاصرة: 337/1)
إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية………..أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربهاالذين يكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی