سوال:
میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ میں نقاب کرنے والی ہوں (چہرہ ڈھانپتی ہوں) اور میری شادی ایک جوائنٹ فیملی میں ہو رہی ہے، جہاں میرے منگیتر کا صرف ایک چھوٹا بھائی ہے، اور وہ اس وقت الگ گھر یا پورشن لینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسی صورت میں کیا مجھے گھر کے اندر دیور (شوہر کے بھائی) کے سامنے بھی نقاب (چہرہ ڈھانپنا) لازم ہوگا، یا میں گھر میں صرف حجاب کر سکتی ہوں؟
جواب: واضح رہے کہ دیور چونکہ غیر محرم ہوتا ہے، لہذا بھابھی کے لیے اس سے پردہ کرنا شرعاً لازم ہے، لیکن اگر جوائنٹ فیملی سسٹم میں گھر کی تنگی کی وجہ سے مستقل طور پر پردہ کرنا دشوار ہو اور کسی فتنہ کا بھی بظاہر اندیشہ نہ ہو تو بھابھی دیور کے سامنے ہوتے ہوئے پورا جسم ڈھانپ کر بغیر زیب و زینت کے صرف چہرہ اور دونوں ہاتھ اور پاؤں کھلے رکھ سکتی ہے، اس کے علاوہ سر کے بال یا بدن کا کوئی اور حصہ اس کے سامنے کھولنا جائز نہیں ہے، اسی طرح بھابھی اور دیور کا آپس میں تنہائی اختیار کرنے اور ہنسی مذاق کرنے سے بہر صورت اجتناب کرنا لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (369/6، ط: دار الفکر)
(و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة ... (وعبدها كالأجنبي معها) فينظر لوجهها وكفيها فقط. ... (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض وشاهد يحكم (ويشهد عليها).
(قوله وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة كما قدمه في شروط الصلاة.
الفتاوي التاتارخانیة: (474/3، ط: زکریا)
والمحرم الزوج ومن لا یجوز له مناکحتها علی التأبید برضاع، أو صهریة.
کتاب النوازل: (405/15، ط: دارالاشاعت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی