resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حالتِ حیض میں جماع کا کفّارہ

(39867-No)

سوال: میرے ایامِ حیض کی عادت عموماً چھ دن کی ہے، لیکن اس مرتبہ مجھے سات دن تک حیض آیا، ساتویں دن صبح میرے شوہر نے ہمبستری کا مطالبہ کیا اور میں انہیں روک نہ سکی، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ میں ابھی پاک نہیں ہوئی، ساتویں دن شام تک مجھے بھورا مادہ (ڈسچارج) آتا رہا۔ میں اپنے اس عمل پر بہت نادم/شرمندہ ہوں، ہم پر کتنا کفّارہ لازم ہوگا؟

جواب: حالتِ حیض میں جماع کرنا یا ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصّہ میں بغیر رکاوٹ کے لطف اندوز ہونا حرام اور سخت گناہ ہے۔ سوال میں پوچھی گئی صورت میں چونکہ مرد نے لاعلمی میں جماع کیا ہے جبکہ عورت کو معلوم تھا کہ وہ حالتِ حیض میں ہے، اس لیے اُس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے اور بہتر یہ ہے کہ اپنی وسعت کے بقدر کچھ صدقہ بھی کرے، حدیث میں ہے کہ جو آدمی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اسے ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا چاہیے۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر:290)
نوٹ: ایک دینار ساڑھے چار ماشہ(4.374 گرام ) سونے کا ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الایة: 222)
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَo

سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث:290، ط: دارالرسالة العالمیة)
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ۔

الھندية: (39/1، ط: دار الفکر)
منها حرمة الجماع هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف هكذا في السراج الوهاج فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة والاستغفار ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار كذا في محيط السرخسي۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues