resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیماری کی وجہ سے پیشاب کے قطروں کا آنا، وسوسۂ طہارت اور شرعی معذور کے احکام

(42076-No)

سوال: السلام علیکم، میں خاص طور پر درخواست کرتی ہوں کہ کسی خاتون مفتیہ سے بھی اس سوال کا جائزہ لیا جائے۔
میں ایک شادی شدہ عورت ہوں اور تقریباً 4–5 سال سے دائمی پیشاب کے قطرے آنے / بے اختیاری (urinary leakage/incontinence) کے مسئلے میں مبتلا ہوں۔ یہ عموماً چھوٹے قطروں یا دھبوں کی صورت میں ہوتا ہے اور طبی طور پر یہ تصدیق ہوچکی ہے کہ یہ پیشاب ہی ہے۔ اکثر مجھے اس بات کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ رساؤ کب ہوا، البتہ بعد میں پیڈ یا زیرِ جامہ پر دھبے نظر آتے ہیں۔
تقریباً دو سال سے مجھے مسلسل پیڈ استعمال کرنا پڑ رہا ہے، لیکن مسلسل پیڈ پہننے سے جسم کے نازک حصے میں خارش، جلن اور تکلیف ہوتی ہے اور اگر پیڈ نہ پہنوں تو ہر وقت یہ بے چینی رہتی ہے کہ شاید کسی بھی وقت قطرے نکل جائیں، اگرچہ یقین نہ ہو کہ واقعی رساؤ ہو رہا ہے۔
سوتے وقت مجھے یہ مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن دن کے وقت مسلسل یہ احساس رہتا ہے کہ شاید قطرے آرہے ہوں، جس کی وجہ سے کھڑے ہونے، بیٹھنے یا چلنے پھرنے میں سکون محسوس نہیں ہوتا۔
میں اپنے “معذور” ہونے کی شرعی حیثیت اور نماز کے علاوہ روزمرہ زندگی کے عملی احکام کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔
میرے سوالات درج ذیل ہیں:
1) چونکہ یہ ایک دائمی بیماری ہے تو کیا روزمرہ زندگی میں پیشاب کے چھوٹے ناگزیر دھبوں کے معاملے میں مجھے شرعی معذور سمجھا جائے گا؟
2) اگر میں پیڈ نہ پہنوں اور بعد میں زیرِ جامہ یا کپڑوں پر ہلکے دھبے نظر آئیں تو کیا میں فرنیچر، بستر، صوفہ وغیرہ پر بغیر بار بار نجاست منتقل ہونے کی فکر کے معمول کے مطابق بیٹھ سکتی ہوں؟
3) اگر میں کسی کے گھر جاؤں اور مجھے صرف شک ہو کہ شاید میرے کپڑوں پر ہلکی غیر محسوس نمی یا دھبے ہوںتو کیا ان کے فرنیچر کو ناپاک سمجھا جائے گا یا نجاست کا حکم صرف یقین اور واضح منتقلی کی صورت میں ہوگا؟
4) کیا مجھے بار بار اپنے کپڑے اور فرنیچر چیک کرنا ضروری ہے یا شک اور وہم کو نظر انداز کرنا چاہیے؟
5) پیڈ استعمال کرنے سے جلد پر خارش اور جلن ہو رہی ہے تو کیا باوجود اس مشقت اور تکلیف کےشرعاً میرے لیے ہر وقت پیڈ پہننا لازم ہے؟
اس مسئلے نے ازدواجی تعلقات پر بھی اثر ڈالا ہے۔ مباشرت سے پہلے مجھے بار بار واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، حالانکہ میں کچھ دیر پہلے جاچکی ہوتی ہوں، صرف اس خوف سے کہ کہیں مباشرت کے دوران قطرے نہ آجائیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میں معمول کے مطابق واش روم استعمال کرکے واپس آتی ہوں، پیڈ یا زیرِ جامہ پہن لیتی ہوں، پھر کچھ وقت بعد شوہر کی خواہش ہوتی ہے تو دوبارہ واش روم جانے پر مجبور محسوس کرتی ہوں، یہاں تک کہ ابتدائی محبت آمیز معاملات (foreplay) کے بعد بھی مباشرت سے پہلے دوبارہ واش روم جاتی ہوں۔
6) کیا اس حد تک احتیاط اسلام میں مطلوب ہے یا مثانے کو ایک مناسب حد تک خالی کرلینا کافی ہے؟ نیز واش روم استعمال کرنے اور مباشرت کے درمیان کتنا وقفہ قابلِ قبول سمجھا جائے گا؟
میں اس بارے میں بھی رہنمائی چاہتی ہوں کہ طہارت کے مسائل میں وسوسوں اور غیر ضروری مشقت سے کیسے بچا جائے جبکہ دین کی ذمہ داری بھی پوری ہوتی رہے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: دینِ اسلام ایک آسان اور فطری دین ہے، جس میں بیماری، مشقّت اور اضطراب کی صورت میں خاص رعایت اور سہولت رکھی گئی ہے۔ آپ جس جسمانی اور ذہنی کیفیت خصوصاً طہارت سے متعلّق وسوسوں اور بار بار شک میں مبتلا ہونے کی حالت سے گزر رہی ہیں، شریعت میں اس کا واضح، آسان اور اطمینان بخش حل موجود ہے۔ ذیل میں آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب وار ذکر کیے جاتے ہیں:
1) شریعتِ مطہّرہ میں "معذور" اُس شخص کو کہا جاتا ہے جسے ایسی بیماری لاحق ہو کہ ایک نماز کا پورا وقت اس حال میں گزر جائے کہ اسے اتنی مہلت بھی نہ ملے، جس میں وہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے، اور اس دوران عذر (مثلاً پیشاب کے قطرات) مسلسل آتے رہیں۔ پہلی مرتبہ معذور ثابت ہونے کے بعد نمازوں کے اوقات میں اگر صرف ایک مرتبہ بھی قطرہ آجائے تو معذوری برقرار رہتی ہے، لہٰذا اگر آپ کی حالت یہی ہے کہ ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ قطرہ ضرور آجاتا ہے تو آپ شرعاً معذور شمار ہوں گی۔ ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت کے داخل ہونے کے بعد ایک مرتبہ وضو کرلینا کافی ہے، پھر اس پورے وقت میں آنے والے قطرات سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اور آپ اسی وضو سے فرض، سنۤت اور نفل سب ادا کرسکتی ہیں، البتہ نماز کا وقت ختم ہونے پر وضو ختم ہوجائے گا۔
2) اگر آپ پیڈ استعمال نہیں کرتیں اور زیرِ جامہ پر ہلکے دھبے آجائیں تو جب تک نجاست بستر، صوفے یا فرنیچر پر واضح طور پر منتقل نہ ہو، یعنی وہاں کوئی رطوبت، نشان یا اثر ظاہر نہ ہو، تب تک وہ تمام چیزیں شرعاً پاک شمار ہوں گی۔ شریعت کا اصول ہے: “الیقین لا یزول بالشک” یعنی یقین، محض شک سے ختم نہیں ہوتا، لہٰذا صرف احتمال یا وہم کی بنیاد پر کسی چیز کو ناپاک سمجھنا درست نہیں۔ آپ معمول کے مطابق بستر، صوفے اور دیگر جگہوں پر بیٹھ سکتی ہیں، بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
3) اگر آپ کو صرف یہ وہم ہو کہ شاید کپڑوں کی ہلکی نمی کسی دوسرے کے فرنیچر یا بستر تک منتقل ہوگئی ہو تو اس شک کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب تک کپڑا اتنا گیلا نہ ہو کہ نجاست واضح طور پر دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور اس کا اثر محسوس یا نظر آئے، اس وقت تک شرعاً نجاست کا حکم نہیں لگے گا۔ لہٰذا صرف شک اور وسوسے کی بنیاد پر دوسروں کی چیزوں کو ناپاک سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ وسوسوں کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
4) بار بار کپڑے، بستر یا جسم کو چیک کرنا شریعت میں مطلوب نہیں، بلکہ یہ وسوسوں کو بڑھاتا ہے۔ فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ جس شخص کو قطروں کے بارے میں وسوسہ ہو، وہ وضو کے بعد اپنے زیرِ جامہ پر تھوڑا سا پانی چھڑک لے تاکہ بعد میں اگر کوئی نمی محسوس ہو تو اسے یہی گمان ہو کہ یہ پانی کے چھینٹے ہیں، لہٰذا آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ بار بار چیک کرنے کی عادت چھوڑ دیں اور محض شک کو نظر انداز کریں۔
5) اگر پیڈ (Pad) پہننے سے جلد میں خارش، تکلیف یا بیماری بڑھتی ہو تو شریعت آپ کو اس کا پابند نہیں کرتی، کیونکہ فقہی اصول ہے: “المشقۃ تجلب التیسیر” یعنی مشقت آسانی کو لازم کرتی ہے، لہٰذا آپ پیڈ استعمال نہ کریں تو بھی گنجائش ہے۔ اس کی جگہ آپ نرم سوتی کپڑا یا ٹشو استعمال کرسکتی ہیں جو جلد کے لیے مضر نہ ہو، اور ضرورت کے مطابق تبدیل کرلیا کریں۔ اگروہ بھی مشکل ہو یااس کے باوجود بھی نجاست نکل کر کپڑوں کوناپاک کرتا ہو تو اگر یقین ہو کہ کپڑا پاک کرنے کے بعد نماز سے فارغ ہونے سے پہلے دوبارہ ناپاک نہیں ہوگا تو اس کپڑے کو دھونا ضروری ہے اور اگر دوبارہ ناپاک ہونے کا یقین ہو تو دوبارہ دھونا ضروری نہیں ہے، بلکہ اسی کپڑے میں نماز پڑھنے سے نماز ہوجائیگی۔بالخصوص جبکہ نجاست بہت معمولی ہو، یعنی درہم (1.4سینٹی میٹرقطرکادائرے یعنی تقریباً ایک روپے کے سکے کے پھیلاؤ) سے کم ہو، تو فقہِ حنفی کے مطابق ایسی نجاست ویسے بھی معاف ہے، اور اس حالت میں پڑھی گئی نماز ادا ہوجاتی ہے، اگرچہ دھولینا بہتر ہے۔
6) مباشرت سے پہلے یا دورانِ مباشرت بار بار واش روم جانا، شدید اضطراب میں مبتلا ہونا یا ہر مرتبہ طہارت کے بارے میں فکر مند رہنا شرعاً مطلوب نہیں، بلکہ یہ وسوسہ اور غیر ضروری مشقت ہے۔ ایک مرتبہ پیشاب سے فارغ ہوجانا کافی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ واش روم جانے کی کوئی شرعی ضرورت نہیں، خواہ کچھ وقت گزر جائے۔ اگر مباشرت کے دوران یا شہوت کی حالت میں کوئی قطرہ نکل بھی جائے تو اس سے نہ آپ گناہگار ہوں گی اور نہ ازدواجی تعلق میں کوئی خرابی آئے گی، کیونکہ مباشرت کے بعد غسل واجب ہوجاتا ہے، اور غسل کے ساتھ مکمل طہارت حاصل ہوجاتی ہے، لہٰذا اس خوف اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ ازدواجی زندگی متاثر نہ ہو۔
*وسوسوں سے بچنے کی اہم نصیحت:*
آپ اپنے دل میں یہ بات مضبوط کرلیں کہ جب ایک مرتبہ طہارت حاصل ہوگئی تو اب محض شک اور احساس کی بنیاد پر خود کو ناپاک تصوّر نہیں کریں گی۔ جب تک یقینی طور پر نجاست نظر نہ آجائے، اپنے آپ کو پاک ہی سمجھیں۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر آسانی چاہتا ہے، تنگی اور مشقت نہیں۔ بیماری اور مجبوری کی حالت میں شریعت مزید سہولت دیتی ہے، اس لیے دین کو اپنے لیے بوجھ نہ بنائیں۔ اسی کے ساتھ کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے طبی مشورہ بھی ضرور کریں۔ خواتین میں یہ مسئلہ عام ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامل شفائے عاجلہ عطا فرمائے، آپ کی پریشانیوں کو دور فرمائے، اور آپ کے لیے دین و دنیا میں آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

*تنویر الابصار مع الدر المختار: (305/1، ط: دار الفکر)*
(و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة(بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.( و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في، (لدلوك الشمس) (الإسراء: 78) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق.

*الدر المختار: (306/1، ط: دار الفکر)*
(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، وكذا مريض لا يبسط ثوبه إلا تنجس فورا له تركه

*مشكاة المصابيح(حدیث:419)*
عن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " إن للوضوء شيطانا ،يقال له :الولهان، فاتقوا وسواس الماء " . رواه الترمذي وابن ماجه

*الاشباہ والنظائر(الفن الأول:القواعد الكلية، ص:49،47، ط:دار الكتب العلمية)*
"القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ....... شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة."

*فتاوی شامی(كتاب الطھارة، قبيل فرض الغسل، ج:1، ص:151، ط:سعید)*
"(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن."

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues