سوال:
السلام وعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ مفتی صاحب
،میں ایک شرعی مسئلہ پوچھنا چاہتی ہوں جس کی وجہ سے میں سخت ذہنی دباؤ اور وہم کا شکار ہوں۔ میں باہر جاتے ہوئے نقاب کرتی ہوں، لیکن میں ایک ایسے مشترکہ خاندان میں رہتی ہوں جہاں کزنز اور دیگر نامحرم رشتہ داروں کا آنا جانا رہتا ہے۔ گھر کا ماحول ایسا ہے کہ واش روم اور کچن وغیرہ بھی مشترکہ استعمال ہوتے ہیں۔میری اپنے کزنز اور نامحرم رشتہ داروں کے ساتھ بات چیت بھی بہت کم ہوتی ہے اور ایسی کوئی بے تکلفی بھی نہیں ہے، لیکن ایک ہی گھر ہے۔ میں گھر کا یہ ماحول بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی، البتہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی ہوں کہ کسی نامحرم کے سامنے فیس ٹو فیس (Face to Face) نہ ٹھہروں اور نہ ہی ان کے سامنے بیٹھوں۔ میں گھر میں ہمیشہ کھلے کپڑے پہنتی ہوں اور ہر وقت سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھے رکھتی ہوں، لیکن اس سب کے باوجود گھر کے اندر ہر وقت چہرے کا پردہ (نقاب) کرنا میرے لیے ناممکن حد تک مشکل ہے۔میں نے یوٹیوب پر پردے کے متعلق اتنی زیادہ ویڈیوز اور مختلف فتوے دیکھ لیے ہیں کہ اب مجھے ایسا لگنے لگا ہے کہ زندگی بہت مشکل ہے۔ اس ذہنی بوجھ اور وہم کی وجہ سے میں وہ کام اور نیکیاں بھی نہیں کر پا رہی جو پہلے سکون سے کیا کرتی تھی۔ مجھے ڈر ہے کہ میں اس بڑی ذمہ داری (مستقل چہرے کے پردے) کے بوجھ سے تھک کر اللہ سے دور ہی نہ ہو جاؤں۔براہِ کرم میری اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ شریعت میں میرے لیے کتنی گنجائش ہے؟ کیا میں گھر کے اندر بغیر میک اپ کے ان رشتہ داروں کے سامنے (باقی پردہ مکمل رکھتے ہوئے) چہرہ کھلا رکھ سکتی ہوں؟ میں صرف اتنا کرنا چاہتی ہوں جتنا مجھ پر اس حال میں فرض ہے تاکہ میری زندگی آسان ہو سکے اور میں دین پر ثابت قدم رہ سکوں
جواب: واضح رہے کہ اگر جوائنٹ فیملی سسٹم میں گھر کی تنگی کی وجہ سے مستقل طور پر پردہ کرنا دشوار ہو اور کسی فتنہ کا بھی بظاہر اندیشہ نہ ہو تو غیر محرم کزنز (Cousins) کے سامنے ہوتے ہوئے پورا جسم ڈھانپ کر بغیر زیب و زینت کے صرف چہرہ اور دونوں ہاتھ اور پاؤں کھلے رکھ سکتی ہے، اس کے علاوہ سر کے بال یا بدن کا کوئی اور حصہ غیر محرموں کے سامنے کھولنا جائز نہیں ہے، اسی طرح غیر محرموں کے ساتھ آپس میں تنہائی اختیار کرنے اور ہنسی مذاق کرنے سے بہر صورت اجتناب کرنا لازم ہے، نیز اگر کبھی کوئی ضروری بات یا کام ہو تو آواز میں لچک کیے بغیر ضرورت کی حد تک بات کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (369/6، ط: دار الفکر)
(و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة ... (وعبدها كالأجنبي معها) فينظر لوجهها وكفيها فقط. ... (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض وشاهد يحكم (ويشهد عليها).
(قوله وأما في زماننا فمنع من الشابة) لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة كما قدمه في شروط الصلاة.
الفتاوي التاتارخانیة: (474/3، ط: زکریا)
والمحرم الزوج ومن لا یجوز له مناکحتها علی التأبید برضاع، أو صهریة.
کتاب النوازل: (405/15، ط: دارالاشاعت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی