سوال:
مجھے آٹھ سال سے یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے ایک بیماری لاحق ہے (اثرات کے معاملات ہیں)۔ سال سال خون آتا ہے، کبھی سال آتا ہی نہیں۔ کبھی سال بھر خون آتا رہتا ہے اور کبھی پورا سال نہیں آتا، لیکن رمضان میں اس طرح کی صورتِ حال کبھی پیش نہیں آئی، اس مرتبہ رمضان میں پہلی دفعہ ایسا ہوا۔ رات کے وقت تقریباً 10 سے 12 دن تک کبھی ذرا سا خون آتا تھا اور کبھی نہیں آتا تھا، نہ کبھی پوری رات خون آیا اور نہ ہی دن میں آیا۔ میں نے اپنی نماز اور روزے مکمل کیے، نہ روزہ چھوڑا اور نہ نماز، اور تراویح بھی پوری ادا کیں، اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ وہ دن 10 تھے یا 12 دن تھے؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے ان روزوں کی قضا کرنی چاہیے یا نہیں؟ اور اگر قضا کرنی ہے تو کتنے روزوں کی قضا کرنی ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر پاکی کا ایک عرصہ (کم از کم پندرہ دن) گزرنے کے بعد خون کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ دس یا بارہ دنوں میں سے کتنے دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا ہے، بلکہ دونوں کے بارے میں شک ہے تو ماہواری کی زیادہ سے زیادہ مدت چونکہ دس دن ہے، نیز قلیل و کثیر میں شک کی صورت میں قلیل کو یقینی قرار دیا جاتا ہے، لہٰذا دس دنوں کے روزے دوبارہ رکھنے ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (285/1، ط: دار الفکر)
(وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) ، إن استغرق العمر (إلا عند) الاحتياج إلى (نصب عادة لها إذا استمر) بها (الدم) فيحد لأجل العدة بشهرين به يفتى.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (ص: 139، ط: دار الكتب العلمية)
وليس الشرط دوامه فانقطاعه في مدته كنزوله.
الأشباه والنظائر مع شرح الحموي: (204/1، ط: دار الكتب العلمية)
من تيقن الفعل وشك في القليل، والكثير حمل على القليل؛ لأنه المتيقن
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی