resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عورت کا نامحرم کے ساتھ رابطہ قائم کرنا

(42115-No)

سوال: خاندان کی ایک خاتون رکن ایک غیر محرم مرد کے ساتھ دوستی کی بنیاد پر مسلسل پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہے۔ اگرچہ کوئی جسمانی تعلق نہیں ہوا، لیکن ان کی گفتگو تشویش کا باعث ہے اور اس سے اُس کی عزت، شہرت اور مستقبل کے نکاح کے امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسلام غیر محرم مرد و عورت کے درمیان اس قسم کے تعلق اور رابطے کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟
ایک ایسے خاندان کے فرد کی حیثیت سے جسے اس معاملے کا علم ہے، جبکہ میں یہ بات کسی سے شیئر بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی براہِ راست اُسے نصیحت کرسکتا ہوں، تو ایسی صورت میں اُس کی عزت اور خاندان کی ساکھ محفوظ رکھتے ہوئے بڑے نقصان سے بچانے کے لیے صحیح طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ میں اُس کے لیے کس طرح دعا کروں کہ اللہ تعالیٰ اُسے صحیح راستے کی طرف واپس لے آئے؟

جواب: کسی عورت کا نامحرم مرد سے دوستی لگا کر پیغامات کے ذریعے رابطہ میں رہنا جائز عمل نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ مذکورہ خاتون کے معاملے کو راز میں رکھیں، اور لوگوں میں اس کی تشہیر نہ کریں، تاہم دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اگر آپ مناسب سمجھتے ہوں تو اس کے والد یا سرپرست کو اس بارے میں حکمت کے تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے بتادیں تاکہ وہ بدنامی کے بغیر اس کی مناسب اصلاح کرسکیں۔
جہاں تک دعا کا تعلّق ہے تو دعا چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے بھی مانگی جاسکتی ہے، اور اگر دعا کے لیے دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اللہ کی حمد و ثناء کریں، پھر اوّل آخر درود شریف پڑھ کر اللہ سے دعا کریں کہ "یا اللہ! ہم سب کو اور مذکورہ خاتون کو ہدایت عطا فرما، اور ہر فحش اور بُرے کام سے بچنے کی توفیق عطافرما" تو دعا کا یہ طریقہ قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (النور، الآية: 19)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ o

مسند أحمد: (رقم الحديث: 23937، 363/39، ط: الرسالة)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عز وجل، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " عَجِلَ هَذَا " ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ، ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ ".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues