resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: خواتین کا آن لائن نا محرم مردوں سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنا

(48254-No)

سوال: مفتی صاحب! مستورات کا ان لائن نا محرم مردوں سے قرآن پاک پڑھنے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب: بالغ لڑکیوں کے لیے آن لائن کسی نامحرم مرد سے قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں:
*1)* اگر صرف ایک طالبہ ہو تو اگرچہ آن لائن ہونے کی وجہ سے حقیقی خلوت موجود نہیں ہوتی، تاہم فتنہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ پایا جاتا ہے؛ لہٰذا یہ صورت درست اور مناسب نہیں ہے، البتہ اگر دورانِ تعلیم اس طالبہ کے ساتھ اس کا کوئی محرم مرد یا کوئی خاتون موجود ہو تو شرعی پردے کی مکمل رعایت کے ساتھ مرد استاد سے آن لائن تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ دورانِ تدریس غیر ضروری گفتگو، ہنسی مذاق اور سبق سے ہٹ کر دیگر باتوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
*2)* اگر ایک سے زیادہ طالبات آن لائن قرآن کی تعلیم میں شریک ہوں تو شرعی پردے اور دیگر متعلقہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے ان کے لیے نامحرم مرد استاد سے قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ دورانِ تدریس غیر ضروری گفتگو، ہنسی مذاق اور ہر اس بات سے مکمل اجتناب کیا جائے جو تعلیم کی ضرورت سے زائد ہو۔
نیز نابالغ چھوٹی بچیاں جن کی عمر نو سال سے کم ہو اور جو قریب البلوغ (مراہقہ) نہ ہوں، ان کے لیے مرد استاد سے خواہ آن لائن ہو یا آمنے سامنے بیٹھ کر ہو، تعلیم حاصل کرنا جائز ہے اور ان کے لیے پردے کا وہ حکم نہیں جو قریب البلوغ یا بالغ لڑکیوں کے لیے ہے، بشرطیکہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

سنن الترمذي: (رقم الحدیث: 1171، 2/ 462، ط: دار الغرب الاسلامي)
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان. ... الخ

صحيح مسلم: (رقم الحدیث: 2173، 7/ 8، ط: دار احیاء التراث العربي)
لا يدخلن رجل بعد يومي هذا على مغيبة إلا ومعه رجل أو اثنان ».

شرح النووي علی مسلم: (14/155، ط: دار احیاء التراث العربي)
إن ظاهر هذا الحديث جواز خلوة الرجلين أو الثلاثة بالأجنبية.

الموسوعة الفقهية الکويتية: (7/88، ط: دار السلاسل)
ولا تجوز خلوة المرأة بالأجنبي ولو في عمل، والمراد بالخلوة المنهي عنها أن تكون المرأة مع الرجل في مكان يأمنان فيه من دخول ثالث

رد المحتار: (367/6، ط: دار الفکر)
اقول: وقول القنية وليس معهما محرم يفيد أنه لو كان فلا خلوة والذي تحصل من هذا أن الخلوة المحرمة تنتفي بالحائل، وبوجود محرم أو امرأة ثقة قادرة

رد المحتار: (537/3، ط: دار الفکر)
(قوله: ومفاده أن الحائل إلخ) أي مفاد التعليل أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة. ويمكن أن يقال في الأجنبية كذلك وإن لم تكن معتدته إلا أن يوجد نقل بخلافه بحر

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues