resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: عادت سے زائد خون آنے کی صورت میں نمازوں کا حکم

(42122-No)

سوال: مفتی صاحب! میری اہلیہ کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ ماہواری کے شروع کے تین روز خون آتا ہے پھر بند ہوتے ہوتے چھٹے روز غسل کر کے پاکی حاصل کرتی ہے، لیکن چند ماہ سے یہ صورت درپیش ہے کہ سات یا آٹھ دن اوپر ہو جاتے ہیں ماہواری نہیں آتی، اس ماہ آٹھ دن بعد ماہواری شروع ہوئی اور اب آٹھ دن ہو گئے ہیں ماہواری جاری ہے، کیا پاکی حاصل کر کے نماز شروع کر دی جائے تاکہ مزید نمازیں قضاء نہ ہوں۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکور خاتون کو چاہیے کہ فی الحال نمازیں نہ پڑھے بلکہ خون بند ہونے یا دس دن پورے ہونے کا انتظار کرے، اگر خون دسویں دن یا اس سے پہلے بند ہو جائے تو خاتون کی حیض کی عادت تبدیل ہوجانے کی وجہ سے تمام دن حیض کے شمار ہوں گے، ان دنوں کی نمازیں معاف ہو گی۔ اور اگر خون دس سے زائد دنوں تک جاری رہے تو اس صورت میں جتنے دن پچھلے ماہ خون آیا تھا، اس ماہ بھی اتنے ہی دن حیض کے شمار ہوں گے اور اس سے زائد خون استحاضہ کا شمار ہوگا، اس صورت میں استحاضہ کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرنی ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*فتاویٰ الھندية: (37/1، ط: مکتبه ماجدیه)*
فان لم یجاوز العشرۃ فالطھر والدم کلاھما حیض سواء کانت مبتدأۃ او معتادۃ وان جاوز العشرۃ ففی المبتدأۃ حیضھا عشرۃ ایام وفی المعتادۃ معروفتھا فی الحیض حیض و الطھر طھر۔

*الھدایة: (65/1، ط: مکتبة رحمانیة)*
ولو زاد الدم علی عشرۃ ایام ولھا عادی معروفة دونھا، ردت الی ایام عادتھا، والذی زاد استحاضة: لقوله علیه السلام المستحاضة تدع الصلوٰۃ ایام اقرائھا۔

*الدر المختار: (باب الحیض، 298/1، ط: سعید)*
و دم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتاً کاملاً لایمنع صوماً و صلاةً و لو نفلاً و جماعاً، لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues