سوال:
السلام علیکم مفتی صاحب! ایک خاتون کو بچے کی پیدائش کے بعد 31 دن گزرنے پر خون آنا بند ہوگیا اور وہ پاک ہوگئیں، چنانچہ انہوں نے غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کردی۔ لیکن اگلے دن دوبارہ تھوڑا سا گہرے رنگ کا خون یا دھبہ (Spotting) آگیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ نماز پڑھنا جاری رکھیں یا 40 دن مکمل ہونے کا انتظار کریں؟ ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں فی الحال آپ نمازیں پڑھنا موقوف کریں اور خون بند ہونے یا چالیس دن گزرنے کا انتظار کریں۔
1) اگر چالیسویں دن یا اس سے پہلے خون بند ہو جائے تو تمام دنوں کا خون نفاس شمار ہوگا۔
2) اور اگر خون چالیس دنوں سے زائد جاری ہے تو اس صورت میں اگر یہ اس خاتون کا پہلا نفاس ہے یعنی پہلی ولادت ہے، اس سے پہلے نفاس کی کوئی مخصوص ایام کی عادت نہیں ہے تو چالیس دن حیض اور اس سے زائد استحاضہ شمار ہوگا۔
3) لیکن اگر مذکورہ خاتون کے ہاں اس سے پہلے ولادت ہوئی تھی تو اس صورت میں گزشتہ ولادت پر جتنے دن خون آیا تھا، اس مرتبہ بھی اتنے ہی دنوں کا نفاس شمار ہوگا اور اس سے زائد خون استحاضہ کا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (230/1، ط: دارالکتاب الاسلامی)
فالطهر المتخلل فيه لا يفصل طال الطهر أو قصر حتى لو رأت ساعة دما وأربعين إلا ساعتين طهرا، ثم ساعة دما كان الأربعون كله نفاسا وعندهما إن لم يكن الطهر خمسة عشر يوما فكذلك، وإن كان خمسة عشر يوما فصاعدا يكون الأول نفاسا والثاني حيضا إن أمكن وإلا كان استحاضة۔
الھندیۃ: (37/1، ط: دارالفکر)
أَقَلُّ النِّفَاسِ مَا يُوجَدُ وَلَوْ سَاعَةً وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى وَأَكْثَرُهُ أَرْبَعُونَ. كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ.
وَإِنْ زَادَ الدَّمُ عَلَى الْأَرْبَعِينَ فَالْأَرْبَعُونَ فِي الْمُبْتَدَأَةِ وَالْمَعْرُوفَةُ فِي الْمُعْتَادَةِ نِفَاسٌ هَكَذَا فِي الْمُحِيطِ.
الطُّهْرُ الْمُتَخَلِّلُ فِي الْأَرْبَعِينَ بَيْنَ الدَّمَيْنِ نِفَاسٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَإِنْ كَانَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فَصَاعِدًا وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی