resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ماموں کے کہنے پر حجاب کرنے کا حکم

(60505-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میرے ماموں مجھے اس بات پر مجبور کرسکتے ہیں یا مجھ پر اپنی مرضی مسلط کرسکتے ہیں کہ جب تک میں ان کے گھر میں رہوں، مجھے حجاب کرنا ہوگا، وہ کہتے ہیں کہ میں ان کی رعیت ہوں، حالانکہ میرا قیام صرف 15 دن کے لیے ہے؟
میں دل سے حجاب اختیار کرنا چاہتی ہوں، لیکن کسی جبر یا ان کے خوف کی وجہ سے نہیں۔

جواب: حجاب کرنا شریعت کا حکم ہے، جس کی پابندی کرنا خواتین کے لیے ضروری ہے، اس لیے پوچھی گئی صورت میں اگر آپ عاقلہ بالغہ ہیں تو حجاب کرنا آپ کے لیے ضروری ہے۔ اگر آپ کے ماموں آپ کو اس کی تلقین کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، آپ یہ سوچ کر فوری طور پر حجاب اختیار کریں کہ یہ شریعت کا حکم ہے، اس سے ماموں کی رعیّت ہونے اور جبر یا خوف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الكريم: (الأحزاب، الآية: ٥٩)*
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ●﴾

*تفسير ابن كثير: (6/ 247، ط: ابن الجوزي)*
يقول تعالى آمرًا رسوله صلى الله عليه وسلم تسليمًا أن يأمر النساء المؤمنات، خاصة أزواجه وبناته لشرفهن، بأن يدنين عليهن من جلابيبهن ليتميزن عن سمات نساء الجاهلية وسمات الإماء، والجلباب هو الرداء فوق الخمار، قاله ابن مسعود وعبيدة وقتادة والحسن البصري وسعيد بن جبير وإبراهيم النخعي وعطاء الخراساني وغير واحد، وهو بمنزلة الإزار اليوم.
قال الجوهري: الجلباب الملحفة، قالت امرأة من هذيل ترثي قتيلًا لها:
تمشي النسور إليه وهي لاهية … مشي العذارى عليهن الجلابيب
قال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رؤوسهن بالجلابيب ويبدين عينًا واحدة.
وقال محمد بن سيرين: سألت عبيدة السلماني عن قول الله عز وجل: ﴿يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾ فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى.
وقال عكرمة: تغطي ثغرة نحرها بجلبابها تدنيه عليها.
وقال ابن أبي حاتم: حدثنا أبو عبد الله الطهراني فيما كتب إلي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن خيثم، عن صفية بنت شيبة، عن أم سلمة قالت: لما نزلت هذه الآية ﴿يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾ خرج نساء الأنصار كأن على رؤوسهن الغربان من السكينة وعليهن أكسية سود يلبسنها.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues