سوال:
ایک خاتون کا آپریشن ہوا جس میں اس کا رحم (Uterus) نکال دیا گیا، آپریشن کے بعد اسے ہلکی ہلکی خون کی بوندیں (Spotting) آ رہی ہیں، جو ممکن ہے کہ چھ ہفتوں تک جاری رہیں۔ شرعی طور پر اس خون کا کیا حکم ہے؟ کیا چونکہ رحم نکال دیا گیا ہے، اس لیے یہ خون حیض یا نفاس شمار نہیں ہوگا اور کیا ایسی حالت میں وہ نماز ادا کرے گی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں رحم (Uterus) کے نکالے جانے کے بعد آنے والا خون حیض یا نفاس شمار نہیں ہوگا، کیونکہ حیض رحم سے آنے والا طبعی خون ہے، جبکہ نفاس ولادت کے بعد رحم سے آنے والے خون کو کہتے ہیں، لہٰذا رحم کے نکالے جانے کے بعد آنے والا خون استحاضہ کے حکم میں ہوگا۔
اس لیے مذکورہ خاتون نماز ادا کرے گی، روزہ رکھے گی، اور استحاضہ کے احکام کے مطابق دیگر عبادات بھی انجام دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوى الهندية: (1/ 36، ط: دار الفكر)*
(الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء) وهي ثلاثة: حيض، ونفاس، واستحاضة. (وفيه أربعة فصول). (الفصل الأول في الحيض) وهو دم من الرحم لا لولادة.....
(الفصل الثاني في النفاس) وهو دم يعقب الولادة، كذا في المتون.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی