سوال:
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
1) میرا سوال یہ ہے کہ کیا عورت کا بال کٹوانا جائز ہےیعنی آج کل بال کٹوانے کےبہت سے اسٹائل ہوتے ہیں، جن کی کٹنگ کے نام بھی ہیں تو کیا شوہر کے لیے کوئی بھی کٹنگ کروانا جائز ہے؟
2) کیا کسی پردے والی عورت کیلے عورتوں کے کسی فنکشن میں کٹنگ والے بال ظاہر کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: 1) عورت کے لیے شوہر کی خواہش پر بھی سر کے بال کاٹنا یا چھوٹے کروانا جائز نہیں ہے، کیونکہ عورتوں کے لیے شرعی عذر کے بغیر سر کے بال کٹوانا یا چھوٹے کروانا درست نہیں ہے، اس میں مردوں یا غیر مسلم عورتوں کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ نے ایسی مشابہت اختیار کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو، مثلاً: بال سرین (Hips) سے نیچے تک بڑھ جائیں، جس کی وجہ سے بال عیب دار لگنے لگیں تو سرین (Hips) سے نیچے والے زائد بالوں کو کاٹنے کی اجازت ہے۔
اسی طرح بالوں کے دو منہ ہو جانے کی وجہ سے بالوں کی افزائش رک گئی ہو تو بالوں کی افزائش کے لئے بالوں کے سروں کو ایک پور یعنی انگلی کے ایک تہائی (1/3) کے برابر کاٹنا جائز ہے۔
2) واضح رہے کہ عام حالات میں ایک مسلمان عورت کے لیے دوسری مسلمان عورت کے سامنے اپنے سر کے بال کھولنا جائز ہے، تاہم اگر کسی عورت نے غیر شرعی طرز پر بالوں کی کٹنگ کروائی ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ دوسری عورتیں بھی اسے دیکھ کر اس قسم کی غیر شرعی کٹنگ کروائیں تو ایسی صورت میں اس عورت کا اپنے بال دوسری عورتوں کے سامنے کھولنا غیر شرعی امور پر ابھارنے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں جو شخص اچھا طریقہ ایجاد کر دے تو اس کو بھی ثواب ملے گا اور اس کے بعد جو اس پر عمل کرے گا، اس کا ثواب بھی اسی ایجاد کرنے والے کو ملے گا، اور عمل کر نے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی“ اور جو اسلام میں برے طریقے کو رائج کرے تو اس رائج کرنے کی وجہ سے گناہ ہوگا اور اس کے بعد جو اس کے برے راستے پر چلے گا اس کا گناہ بھی اسی برے راستے کے رواج دینے والے کو ملے گا اور اس کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر:1017)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (المائدۃ، الایة: 2)
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ o
صحيح البخاري: (كتاب اللباس، باب المتشبهون بالنساء، والمتشبهات بالرجال، رقم الحدیث: 5885، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال:" لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال"، تابعه عمرو، اخبرنا شعبة.
المعجم الكبير للطبراني: (رقم الحدیث: 370، 229/1، ط: المكتب الإسلامي)
عن عبد الله بن عَمرو، قال: نَهى رسولُ الله صلى الله عليه وسلم عن الجُمَّة للحُرَّة، والعِقْصَة للأَمَة
صحیح مسلم: (كتاب العلم، باب من سن سنة حسنة او سيئة ومن دعا إلى هدى او ضلالة، رقم الحدیث: 1017، ط: دار احیاء التراث العربی)
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير بن عبد الحميد ، عن الاعمش ، عن موسى بن عبد الله بن يزيد ، عن عبد الرحمن بن هلال العبسي ، عن جرير بن عبد الله ، قال: جاء ناس من الاعراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم الصوف، فراى سوء حالهم قد اصابتهم حاجة، فحث الناس على الصدقة، فابطئوا عنه حتى رئي ذلك في وجهه، قال: ثم إن رجلا من الانصار جاء بصرة من ورق، ثم جاء آخر، ثم تتابعوا حتى عرف السرور في وجهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها، بعده كتب له مثل اجر من عمل بها، ولا ينقص من اجورهم شيء، ومن سن في الإسلام سنة سيئة فعمل بها، بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ولا ينقص من اوزارهم شيء ".
صحيح البخاري: (كتاب الأدب، باب ستر المؤمن على نفسه، رقم الحدیث: 6069، ط: دار طوق النجاة)
عن سالم بن عبد الله، قال: سمعت ابا هريرة، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" كل امتي معافى إلا المجاهرين ، وإن من المجاهرة ان يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله عليه، فيقول: يا فلان عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه".
شعب الایمان للبیھقی: (رقم الحدیث: 7196، 80/10، ط: مکتبة الرشد)
أنا الأوزاعي، سمعت بلال بن سعد يقول: " إن المعصية إذا خفيت لم تضر إلا صاحبها، وإذا أعلنت فلم تغير ضرت العامة " وفي رواية ابن بشران: " إن الخطيئة إذا خفيت لم تضر، إلا عاملها، وإذا ظهرت ضرت العامة.
الھندیة: (358/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه كذا في الكبرى.
الدر المختار مع رد المحتار: (407/6، ط: دار الفكر)
قطعت شعر رأسها أثمت و لعنت، زاد في البزازية: و إن بإذن الزوج؛لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، و لذا يحرم على الرجل قطع لحيته، و المعنى المؤثر التشبه بالرجال.
إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان لابن القیم: (147/2، ط: مكتبة المعارف)
فمراتب الفاحشة متفاوتة بحسب مفاسدها، فالمتخذ خدنا من النساء والمتخذة خدنا من الرجال أقل شرا من المسافح والمسافحة مع كل أحد، والمستخفى بما يرتكبه أقل إثما من المجاهر المستعلن، والكاتم له أقل إثما من المخبر المحدث للناس به، فهذا بعيد عن عافية الله تعالى وعفوه، كما قال النبى صلى الله تعالى عليه وآله وسلم: "كل أمتى معافى إلا المجاهرين، وإن من المجاهرة أن يستر الله تعالى عليه ثم يصبح يكشف ستر الله عنه، يقول، يا فلان، فعلت البارحة كذا وكذا فيبيت ربه يستره، ويصبح يكشف ستر الله عن نفسه" أو كما قال.
وفى الحديث الآخر عنه صلى الله تعالى عليه وآله وسلم: "من ابتلى من هذه القاذورات بشيء فليستتر بستر الله، فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله"وفى الحديث الآخر "إن الخطيئة إذا خفيت لم تضر إلا صاحبها، ولكن إذا أعلنت فلم تنكر ضرت العامة".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی