سوال:
حضرت مفتی صاحب! کیا زکوة اور دفینہ کے خمس دونوں کا حکم شرعاً یکساں ہے یا دونوں میں کچھ فرق ہے؟ مثلاً ایک شخص نصاب ہے مگر ضرورت مند ہے اس کی بچی کے نکاح کا مسئلہ ہے تو کیا خمس اس کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ زمین سے ملنے والے دفینے میں ہر حال میں خُمس (پانچواں حصہ) لازم نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کچھ تفصیل ہے، جو ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:
1) زمین سے ملنے والے دفینے کے بارے میں اگر نشانات اور علامات کے ذریعے یہ غالب گمان حاصل ہو جائے کہ یہ کسی مسلمان کا ذاتی دفن کیا ہوا خزانہ ہے تو ایسے دفینے میں خُمس لازم نہیں ہوگا، بلکہ اس پر لقطہ (گری پڑی ہوئی چیز) کا حکم جاری ہوگا۔ لقطہ کے حکم کے مطابق مناسب وقت تک اس کی تشہیر کی جائے، اس دوران اگر اس کا مالک یا مالک کے ورثاء مل جائیں تو ان کے حوالے کر دیا جائے، ورنہ غرباء (مستحقینِ زکوٰۃ) پر صدقہ کر دیا جائے۔ البتہ اگر پانے والا خود، یا اس کے اصول و فروع (والدین، اولاد) اور بیوی میں سے کوئی مستحق ہو تو ان کے لیے بھی لقطہ استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
2) اگر بذریعۂ علامات دفن کرنے والے کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکے، یا غالب گمان یہ ہو کہ اہلِ اسلام کے اس علاقے پر غلبہ حاصل ہونے سے پہلے یہاں رہنے والے غیر مسلموں کا دفن کیا ہوا خزانہ ہے، تو ایسی صورت میں اگر وہ زمین کسی معین شخص کی ذاتی ملکیت ہو، یا کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو، اور نہ ہی حکومت نے اس زمین کو آباد کر کے اپنی ملکیت میں لیا ہو تو زمین کی ان دونوں قسموں کے دفینے کو جو شخص بھی دریافت کرے گا، وہ اس کے چار حصوں کا مالک شمار ہوگا، اور اس کا خُمس حکومت کے خزانے (بیت المال) میں جمع کروانا ہوگا، البتہ اگر فسادِ زمانہ کی وجہ سے یہ یقین نہ ہو کہ حکومت اس مال کو صحیح مصرف میں خرچ کرے گی تو پھر اس کا مصرف فقراء، یتیم اور حاجت مند مسافر ہوں گے، البتہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے غریب اور نادار لوگ اس کے زیادہ حق دار ہوں گے۔
نیز لقطہ کی طرح خُمس کے مصرف میں بھی اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر پانے والا خود یا اس کے اصول و فروع (والدین، اولاد) اور بیوی میں سے کوئی مستحق ہو تو ان کے لیے بھی خُمس استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں چونکہ خُمس اور لقطہ مستحق اور نادار لوگوں پر خرچ کرنا ضروری ہے، لہٰذا صاحبِ نصاب شخص کو اس بیٹی کی شادی کے موقع پر ان صورتوں میں خُمس یا لقطہ دینا جائز نہیں ہوگا، تاہم اگر اس کی بیٹی مستحق اور ضرورت مند ہو تو بیٹی کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
3) اگر دفینہ کسی ایسی جگہ سے ملے جو کسی معین فرد کی ملکیت نہ ہو، لیکن حکومت نے اس زمین کو آباد کر کے اپنی ملکیت بنا لیا ہو، تو ایسی زمین سے ملنے والے دفینے میں خُمس لازم نہیں ہوگا، بلکہ سارا کا سارا حکومت کی ملکیت شمار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (322/2، ط: دار الفکر)
(ولو) وجدت (دفين الجاهلية) أي كنزا (خمس) لكونه غنيمة.
والحاصل: أن الكنز يخمس كيف كان والمعدن إن كان ينطبع ..... (وما عليه سمة الإسلام من الكنوز) نقدا أو غيره (فلقطة) سيجيء حكمها (وما عليه سمة الكفر خمس وباقيه للمالك أول الفتح) ولوارثه لو حيا وإلا فلبيت المال على الأوجه وهذا (إن ملكت أرضه وإلا فللواجد) ولو ذميا قنا أنثى لأنهم من أهل الغنيمة.
(قوله: سمة الكفر) كنقش صنم أو اسم ملك من ملوكهم المعروفين بحر (قوله: خمس) أي سواء كان في أرضه أو أرض غيره أو أرض مباحة كفاية قال قاضي خان وهذا بلا خلاف؛ لأن الكنز ليس من أجزاء الدار فأمكن إيجاب الخمس فيه بخلاف المعدن (قوله: وهذا إن ملكت أرضه) الإشارة إلى قوله وباقيه للمالك، وهذا قولهما وظاهر الهداية وغيرها ترجيحه لكن في السراج وقال أبو يوسف: والباقي للواجد كما في أرض غير مملوكة وعليه الفتوى. اه. قلت: وهو حسن في زماننا لعدم انتظام بيت المال بل قال ط: إن الظاهر أن يقال أي على قولهما إن للواجد صرفه حينئذ إلى نفسه إن كان فقيرا كما قالوا في بنت المعتق إنها تقدم عليه ولو رضاعا
الھدایة مع فتح القدیر: (237/2، ط: دار الفكر)
(وإن وجد ركازا) أي كنزا (وجب فيه الخمس) عندهم لما روينا واسم الركاز ينطلق على الكنز لمعنى الركز وهو الإثبات ثم إن كان على ضرب أهل الإسلام كالمكتوب عليه كلمة الشهادة فهو بمنزلة اللقطة وقد عرف حكمها في موضعه، وإن كان على ضرب أهل الجاهلية كالمنقوش عليه الصنم ففيه الخمس على كل حال لما بينا ثم إن وجده في أرض مباحة فأربعة أخماسه للواجد؛ لأنه تم الإحراز منه إذ لا علم به للغانمين فيختص هو به، وإن وجده في أرض مملوكة، فكذا الحكم عند أبي يوسف؛ لأن الاستحقاق بتمام الحيازة وهي منه
(قوله فكذا الحكم عند أبي يوسف) أي الخمس للفقراء وأربعة أخماسه للواجد، سواء كان مالكا للأرض أو لا لأن هذا المال لم يدخل تحت قسمة الغنائم لعدم المعادلة فبقي مباحا فيكون لمن سبقت يده إليه، كما لو وجده في أرض غير مملوكة
الدر المختار مع رد المحتار: (324/2، ط: دار الفکر)
للواجد صرف الخمس لنفسه وأصله وفرعه وأجنبي بشرط فقرهم.
(قوله: لنفسه) أي إن كان محتاجا ولا تغنيه الأربعة الأخماس بأن كان دون المائتين أما إذا بلغ مائتين فلا يجوز له تنازل الخمس بحر عن البدائع. قلت: لكن فيه أنه قد يبلغ مائتين فأكثر ولا يغنيه كمديون بمائتين مثلا فالأولى الاقتصار على الحاجة، وفي كافي الحاكم ومن أصاب ركازا وسعه أن يتصدق بخمسه على المساكين فإذا اطلع الإمام على ذلك أمضى له ما صنع وإن كان محتاجا إلى جميع ذلك وسعه أن يمسكه لنفسه وإن تصدق بالخمس على أهل الحاجة من آبائه وأولاده جاز ذلك وليس هذا بمنزلة عشر الخارج من الأرض.
اللباب فِی شرح الکتاب: (133/4، ط: المکتبة العلمیة)
وأما الخمس فيقسم على ثلاثة أسهم: سهم لليتامى، وسهم للمساكين، وسهم لأبناء السبيل، ويدخل فقراء ذوي القربى فيهم، ويقدمون، ولا يدفع إلى أغنيائهم شيء.
الموسوعة الفقهية الكوتية: (108/23، ط: دار السلاسل)
ذهب جمهور الفقهاء (الحنفية والمالكية والمذهب عند الحنابلة وبه قال المزني من الشافعية) إلى أن خمس الركاز يصرف مصارف الغنيمة وليس زكاة.
فتاویٰ عثمانی: (207/4، ط: مکتبہ معارف القرآن کراچی)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی