resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایک مرتبہ تجدید اسلام کے بعد سابقہ تمام کفریہ جملوں کا تدارک اور حالت ایمان میں ادا کردہ اعمال کی قضا کا حکم

(33553-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آپ کو اجرِ عظیم عطا کرے۔
میرے ایمان، توبہ اور عبادات سے متعلق چند سوالات ہیں، جن کے بارے میں واضح اور مستند شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
1) اگر کسی مسلمان نے ماضی میں کفر کا کوئی کلمہ کہا ہو، پھر اس پر توبہ کرلی ہو اور اسلام پر عمل بھی کرتا رہا ہو، لیکن دو ماہ بعد اسے ایک اور الگ کفر کا کلمہ یاد آئے جو اس نے پہلے کہا تھا مگر بھول گیا تھا تو کیا ان دو مہینوں کے دوران وہ کافر شمار ہوگا یا اس کا مؤاخذہ اسی وقت سے ہوگا جب اسے وہ بات یاد آئی اور اس کا شعور حاصل ہوا؟
2) اگر کوئی شخص ایک مرتبہ خلوصِ دل کے ساتھ شہادتین پڑھ لے، اس پختہ ارادے کے ساتھ کہ وہ ہر قسم کے کفر کو چھوڑ کر مکمل طور پر اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے، اگرچہ اسے کفر کی تمام تفصیلی صورتوں کا ابھی علم نہ ہو، اور اس کے بعد وہ اپنے قول و عقیدے میں انتہائی احتیاط برتنے لگے تو کیا یہ شہادت اس کے اسلام میں واپس آنے کے لیے کافی ہے؟
3) اگر کوئی شخص کفر میں مبتلا ہو گیا ہو اور اس سے پہلے کے دور میں اس کی کچھ فرض نمازیں اور روزے قضا ہو گئے ہوں، پھر بعد میں اس نے خلوص کے ساتھ اسلام میں رجوع کر لیا ہو تو کیا اس پر لازم ہے کہ وہ وہ نمازیں اور روزے قضا کرے جو کفر میں مبتلا ہونے سے پہلے چھوٹ گئے تھے اور کیا اس پر لازم ہے کہ وہ وہ عبادات بھی قضا کرے جو اس نے کفر کے دور میں چھوڑ دیں؟
میں یہ سوالات بحث یا مناظرہ کے لیے نہیں بلکہ دل کے اطمینان اور یقین کے لیے پوچھ رہا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی رہنمائی کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ کلمہ کفر بولنے سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، دوبارہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے اس شخص پر تجدید ایمان کے ساتھ اس کفریہ بات یا باطل مذہب (اگر کوئی اور مذہب اختیار کیا ہو) سے براءت کا اظہار بھی ضروری ہے۔ نیز اگر کفریہ بات کہنے والا مرد شادی شدہ ہو اور تجدید ایمان کے بعد اگر وہ باہمی رضامندی سے بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہو تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں ایک مرتبہ تجدید اسلام کے بعد سابقہ تمام کفریہ جملوں کا تدارک ہوچکا ہے۔
نیز کفریہ کلمات کہنے کی وجہ سے سابقہ تمام نیک اعمال (نماز، روزہ، حج وغیرہ) ضائع ہوجاتے ہیں، البتہ دوبارہ مسلمان ہونے کے بعد حج کے علاوہ دیگر اعمال کی قضا ذمہ میں واجب نہیں ہے، لہذا استطاعت ہونے کی صورت میں صرف حج کی قضا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر: 23)
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا۔

الدر المختار مع رد المحتار: (602/3، ط: دار الفکر)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) ... (وأهلها) ... (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر.
(قوله وأهلها) أي له منعهم من السكنى معها في بيته سواء كان ملكا له أو إجارة أو عارية.
(قوله بقدر حالهما) أي في اليسار والإعسار، فليس مسكن الأغنياء كمسكن الفقراء كما في البحر؛ لكن إذا كان أحدهما غنيا والآخر فقيرا؛ فقد مر أنه يجب لها في الطعام والكسوة الوسط، ويخاطب بقدر وسعه.
(قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا.
وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق، لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى - {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: ٦]- وينبغي اعتماده في زماننا هذا فقد مر أن الطعام والكسوة يختلفان باختلاف الزمان والمكان.... إذ لا شك أن المعروف يختلف باختلاف الزمان والمكان، فعلى المفتي أن ينظر إلى حال أهل زمانه وبلده، إذ بدون ذلك لا تحصل المعاشرة بالمعروف، وقد قال تعالى - {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: ٦].

الهندية: (564/1، ط: دار الفکر)
قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs