resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کسی حرام کو حلال کہنے یا کفریہ جملہ پر مشتمل میسیجز یا آڈیو کلپس آگے شیئر کرنے کا حکم

(33566-No)

سوال: اگر کوئی شخص اچھی شہرت کا حامل ہو، ہمیشہ حلال و حرام کی بات کرتا ہو، داڑھی رکھتا ہو، اور لوگوں کے سامنے دین داری کا اظہار کرتا ہو، لیکن ماضی میں اس نے کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا ہو جو درحقیقت حرام تھی، اور یہ بات اس نے کئی لوگوں کے سامنے کہی ہو۔
اب چونکہ لوگ اسے ایک دیندار شخص سمجھتے ہیں، اس لیے انہوں نے اس کے کہنے پر اس چیز کو حلال سمجھ لیا ہو اور بعض لوگوں نے اس پر عمل بھی کر لیا ہو، حالانکہ وہ چیز حقیقت میں حرام تھی، پھر کچھ عرصے بعد اس شخص کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، وہ توبہ کرے، ایمان کی تجدید کرے اور اکیلے میں کلمہ شہادت پڑھ لے، لیکن ابھی تک اس نے لوگوں کے سامنے اپنی اس غلطی کی وضاحت یا تردید نہیں کی۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ اکیلے میں کلمہ پڑھ کر سچے دل سے توبہ کر لے تو کیا اس شخص کا ایمان معتبر (درست) شمار ہوگا یا پھر وہ اس وقت تک کافر ہی شمار ہوگا جب تک وہ ان تمام لوگوں کے سامنے وضاحت نہ کر دے جن کے سامنے اس نے وہ بات کہی تھی؟
*تنقیح:*
محترم! آپ اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ مسئلہ کی اصل نوعیت کیا ہے؟ مکمل وضاحت سے لکھیں۔
2) حرام چیز سے کیا مراد ہے؟
3) حلال سمجھنے کی وجہ جہالت تھی یا کچھ اور؟
4) جن لوگوں کو مسئلہ بتایا تھا، کیا وہ اب بھی اس شخص کے موقف سے مطئمن ہیں اور اسی پر عمل کرتے آرہے ہیں یا وہ رک چکے ہیں؟
اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جاسکے گا۔
*جواب تنقیح:*
اصل بات یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا تھا، جس میں وہ اُن لوگوں کے Paid Courses شیئر کرتا تھا جو دوسروں نے کریک کر کے یا لیک کر کے انٹرنیٹ پر ڈالے ہوئے تھے۔ یہ شخص وہ پیڈ کورسز لے کر واٹس ایپ گروپ میں لوگوں کو دیتا رہتا تھا، اب اُس نے یہ کام بند کر دیا ہے، لیکن اب اسے یہ فکر لاحق ہے کہ میں نے بہت سے کورسز تقسیم کیے تھے جن میں اساتذہ لوگوں کو ڈیجیٹل اسکلز سکھاتے تھے۔
مثال کے طور پر کچھ پیڈ کورسز کرپٹو کرنسی کے تھے، جن میں ممکن ہے کہ استاد نے تعارف کے وقت یہ کہا ہو کہ کرپٹو کرنسی حلال ہے، حالانکہ کرپٹو کرنسی ایک اختلافی مسئلہ ہے، نہ کہ واضح طور پر حلال یا حرام۔ بہرحال، کہنا صرف یہ ہے کہ اگر اُن پیڈ کورسز میں اساتذہ یا انسٹرکٹرز نے پڑھاتے ہوئے کسی حرام چیز کو حلال کہہ دیا ہو، یا لوگوں کے سامنے کوئی کفر کی بات کہہ دی ہو تو اب مجھے اس کا علم نہیں ہے۔
مزید یہ کہ اُن پیڈ کورسز میں بہت سے کورسز گوروں (غیر ملکیوں) کے بھی تھے، جو ممکن ہے غیر مسلم ہوں، اور انہوں نے بھی کچھ ایسی باتیں کہی ہوں تو اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھے وہ سارے کورسز ایک ایک کر کے مکمل دیکھنے چاہییں؟ حالانکہ وہ بہت زیادہ تھے اور بہت طویل بھی تھے، تاکہ میں یہ تلاش کروں کہ کہیں کسی نے کسی حرام کو حلال تو نہیں کہا یا کوئی اور کفریہ بات تو نہیں کی؟
ابھی تک مجھے معلوم نہیں کہ واقعی کوئی کفریہ بات کہی گئی ہے یا نہیں، لیکن ایسا ہو تو سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا اسے دوبارہ شہادہ پڑھنا چاہیے یا کیا کرے؟ کیا اس کا ایمان درست (Valid) ہے یا نہیں؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے معاملہ کرنے کے بارے میں فی الحال چونکہ توقّف کا فتویٰ ہے، لہذا کرپٹو کرنسی کے ذریعے معاملہ کرنے سے احتیاط کی جائے، تاہم چونکہ یہ اہل علم کے درمیان ایک اختلافی مسئلہ ہے، اس لیے اسے حلال کہنے سے وہ شخص کافر نہیں ہوا ہے۔ نیز جس آڈیو کے بارے میں اس بات کا اندیشہ ہو کہ اس میں کوئی ناجائز یا کفریہ بات ہوگی تو اسے آگے پھیلانے سے پہلے خوب اچھی طرح سن کر تحقیق کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 101، الناشر: دار المعرفة)
وأما الجاهل إذا تكلم بكلمة الكفر ولم يدر أنها كفر قال بعضهم لا يكون كفرا ويعذر بالجهل وقال بعضهم يصير كافرا بذلك ‌ومن ‌أتى ‌بلفظة ‌الكفر وهو لم يعلم أنها كفر إلا أنه أتى بها عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض ولا يعذر بالجهل.

الفصول في الأصول: (327/4، ط: وزارة الأوقاف الكويتية)
فثبت لما وصفنا أن اختلاف المجتهدين ليس ما ذمه الله تعالى بهذه الآيات. ولو كان ذلك اختلافا مذموما، لوجب أن يكون اختلاف العبادات الواردة من طريق النص مذموما، نحو اختلاف فرض المقيم والمسافر في الصلاة والصوم، واختلاف حكم الطاهر والحائض فيهما. فلما كان ذلك اختلافا في أحكام المتعبدين، ولم يكن معيبا ولا مذموما، بل كان حكمة وصوابا من عند الله تعالى، ولم ينفه قوله تعالى: {ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا} [النساء: ٨٢] ، لأن الاختلاف الذي نفاه الله تعالى عن كتابه، وأحكامه، هو اختلاف التضاد والتنافي، وذلك غير موجود في أحكام الله تعالى.

الفتاوى الهندية: (2/ 272، ط: دار الفكر)
من اعتقد الحرام حلالا، أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام: هذا حلال لترويج السلعة، أو بحكم الجهل لا يكون كفرا، وفي الاعتقاد هذا إذا كان حراما لعينه، وهو يعتقده حلالا حتى يكون كفرا أما إذا كان حراما لغيره، فلا وفيما إذا كان حراما لعينه إنما يكفر إذا كانت الحرمة ثابتة بدليل مقطوع به أما إذا كانت بأخبار الآحاد، فلا يكفر كذا في الخلاصة."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Beliefs