resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نیشنل بینک (National Bank) سے گھر کے لیے قرضہ لینا

(33583-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت مجھے اس بات کا فتوی جاری فرمائیں کہ سرکاری ملازم کے لیے گھر بنانے کے لیے نیشنل بینک سے قرض لینا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ مروّجہ بینکاری کا نظام سود، غرر (Uncertainty) اور قمار/جوا (Gambling) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ سودی بینک گھر بنانے کیلئے سود پر قرض دیتا ہے، اس لئے اس کے ساتھ یہ معاملہ کرنا ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
البتہ جو غیر سودی بینک شرعی اصولوں کے مطابق مستند علماء کرام کی زیر نگرانی کام کر رہے ہوں تو ان سے گھر کی سرمایہ کاری کا معاملہ کرنا شرعاً درست ہے، کیونکہ اسلامک بینکنگ کیلئے مستند علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق ایک نظام تجویز کیا ہے، اور قانونی طور پر بھی اسلامی بینکوں پر اس نظام کی پابندی لازم ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق معاملات سر انجام دے رہے ہیں، ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔
واضح رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق کوئی بھی اسلامی بینک گھر وغیرہ کیلئے کسی کو قرضہ نہیں دیتا، بلکہ کسی اسلامی طریقہ تمویل (Islamic mode of financing) جیسے شرکت متناقصہ (Diminishing Musharakah )اور اجارہ (Ijarah)وغیرہ کی بنیاد پر گھر کی سرمایہ کاری کا معاملہ کرتا ہے، جسے مستند علماء کرام نے جائز قرار دیا ہے، لہذا مستند علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے غیر سودی بینک کے ساتھ گھر لینے کا معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا....الخ

وقوله تعالیٰ: (آل عمران، الآیة: 130)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance