عنوان: والدین کی رضامندی کے بغیر لڑکا، لڑکی کا خود نکاح کرنا(3365-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میری عمر اکیس سال ہے اور میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ آج کل میں سخت جنسی ہیجان میں مبتلا ہوں، اور ڈر ہے کہ اگر میں نے نکاح نہ کیا، تو جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر کہیں غلط راہ پر نہ چل پڑوں۔ یونیورسٹی میں ایک لڑکی سے میری دوستی ہو گئی ہے اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم دونوں کے والدین اس شادی کے لیے تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ لڑکا پہلے پڑھائی مکمل کرے اور کچھ کمانے لگے، پھر شادی ہوگی۔ سو ہم نے والدین کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ خاص طور پر جب نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ میں ملوث ہونے کا قوی امکان ہو۔ براہ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں، میں انتہائی ذہنی اذیت میں مبتلا ہوں۔

جواب: واضح رہے کہ شریعت نکاح سے قبل لڑکا اور لڑکی کے آپس میں ملنے جلنے کی اجازت نہیں دیتی، اس سے بچنا ضروری ہے۔
اگر عاقل بالغ لڑکا اور لڑکی والدین کو لاعلم رکھ کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کریں، تو نکاح منعقد ہو جائے گا، بشرطیکہ وہ دونوں (لڑکا، لڑکی) خاندان، نسب، مال اور دین کے اعتبار سے ایک دوسرے کا کفو (برابر) ہوں، لیکن اگر لڑکا اور لڑکی خاندان، نسب، مال اور دین کے اعتبار سے ایک دوسرے کا کفو (برابر) نہ ہوں، تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، اسی وجہ سے اسلام نے خصوصا لڑکی کی حیا اور پاکدامنی کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کا اہتمام ولی (والدین ) کے سپرد کیا ہے،
لہذا لڑکی اور لڑکے کو والدین کی اجازت کے بغیر ہرگز کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے، جسے معاشرتی اور اخلاقی طور پر برا سمجھا جاتا ہو۔
تاہم نکاح کا مقصد دو خاندانوں کے درمیان محبت و الفت کا تعلق قائم کرنا ہے،لیکن اس طرح کا اقدام باہمی منافرت اور ناچاقیوں کا سبب بن سکتا ہے، اسلئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح پر قدرت نہ ہونے کی صورت میں نفسانی خواہشات اور سفلی جذبات کو کمزور کرنے کے لیے روزے کا عمل تجویز فرمایا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جو نکاح پر قدرت نہیں رکھتا اس کے لیے ضروری ہے کہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ (شہوتوں کے آگے) ڈھال ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ بری صحبت اور گناہ پر ابھارنے والے آلات سے دور رہنا بھی ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (کتاب النکاح، رقم الحدیث: 5066)
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا، لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ؛ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ۔

سنن الترمذی: (ابواب النکاح، رقم الحدیث: 4089)
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ ". هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ

الفتاوی الھندیہ: (282/1)
ثم المرأ ۃ اذا زوجت نفسھا من غیر کفوء صح النکاح فی ظاہر الروایۃ عن ابی حنیفۃ و ھو قول ابی یوسف آخرا، و قول محمد آخرا ایضا حتی ان قبل التفریق یثبت فیہ حکم الطلاق و الظھار و الایلاء و التوارث وغیر ذلک و لکن للاولیاء حق الاعتراض و روی الحسن عن ابی حنیفۃ ان النکاح لا ینعقد و بہ اخذ کثیر من مشائخناؒ کذا فی المحیط و المختار فی زماننا للفتوی روایۃ الحسن و قال الشیخ الامام شمس الائمہ السرخسی روایۃ الحسن اقرب الی الاحتیاط کذا فی فتاویٰ قاضی خان فی فصل شرائط النکاح۔

الدر المختار مع رد المحتار: (154/4، ط: زکریا)
نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا ولي، والأصل أن کل من تصرف في مالہ تصرف من نفسہ، ولہ أي للولي إذا کان عصبۃ الاعتراض في غیر الکفو۔

مرقاۃ المفاتیح: (باب الولی فی النکاح، 206/6)
وقال ابن ھمام حاصل ما فی الولی من علماءنا سبع روایات رویتان عن أبي حنیفۃؒ احدھما تجوز مباشرۃ البالغۃ العاقلۃ عقد نکاحہا ونکاح غیرہا مطلقاً إلا أنہ خلاف المستحب وہو ظاہر المذہب وروایۃ الحسن عنہ ان عقدت مع کفوءجاز ومع غیرہ لا یصح واختیرت للفتوی لما ذکر من ان کم من واقع لایرفع۔

فتاوی عثمانی: (فصل فی الولایۃ و الکفاءۃ و خیار البلوغ، 285/2)
لہذا اگر وہ شخص واقعتاً کفو نہیں ہے تو اس کا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 912 Jan 17, 2020
Walidain ki razamandi kay baghair larka larki ka khud nikah karna, ladka, ladki, waldain, ke, beghair, Without consent of parents can a boy and girl get married (nikah) themselves, nikah at their own will

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.