سوال:
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر ہم کسی منصوبے (پروجیکٹ) میں سرمایہ کاری کریں اور ان کی طرف سے ماہانہ مقررہ منافع دیا جائے تو شرعی اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسا کاروبار معتبر (درست) ہوگا جس میں صرف نفع ہو اور نقصان کا کوئی تصور ہی نہ ہو؟
جواب: اگر سرمایہ کاری کے معاہدہ میں یہ شرط ہو کہ سرمایہ کار کو نفع کی ضمانت دی جائے کہ ہر ماہ مقررہ رقم یا مقررہ فیصد بطور منافع لازماً ملے گا، کاروبار کو چاہے نفع ہو یا نقصان تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، لہذا جائز سرمایہ کاری وہی کہلائے گی جس میں نفع اور نقصان کا امکان موجود ہو، (جیسے مضاربہ یا مشارکہ وغیرہ) نیز اس میں دیگر شرعی مفاسد بھی نہ پائے جاتے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
السنن لإبن ماجة: (باب : النهي عن بيع ما ليس عندك وعن ربح ما لم يضمن، رقم الحدیث: 2188)
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ"
الفتاوی الہندیة: 301/2، ط: دار الفكر)
أَمَّا شَرِكَةُ الْعُقُودِ فَأَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْمَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ وَكُلُّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهَيْنِ: مُفَاوَضَةٌ وَعِنَانٌ، كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ. وَرُكْنُهَا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ ... وَشَرْطُ جَوَازِ هَذِهِ الشَّرِكَاتِ كَوْنُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مَعْلُومَ الْقَدْرِ، فَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا تَفْسُدُ الشَّرِكَةُ وَأَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ لَا مُعَيَّنًا فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً أَوْ مِائَةً أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. وَحُكْمُ شَرِكَةِ الْعَقْدِ صَيْرُورَةُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وَمَا يُسْتَفَادُ بِهِ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: 310/3. ط: دار الجيل)
المادة (١٣٠٨) - إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم)....
الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی