سوال:
مفتی صاحب! ایک علامہ صاحب یہ فرما رہے تھے کہ آج کل انسان کے پاس ذرا سا پیسہ یا طاقت آ جائے تو وہ اپنے آپ کو خدا بنا لیتا ہے (یا بن جاتا ہے)۔ یہ بات زید کے دل کو بہت بری لگی لیکن وہ خاموش رہا، پھر انہوں نے بات کرنے کے بعد جب ہاتھ آگے بڑھایا تو اس نے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا جیسے اپنی بات کی تصدیق کرانا مقصد ہو۔ پھر کچھ دیر بعد یہی بات بولی لیکن اس طرح الفاظ استعمال کیے کہ" پیسہ یا طاقت آ جائے تو وہ خدا ہی بن گیا نا ( یا ہو گیا نا)۔ کیوں! "۔ اس وقت زید کے دل میں "خدا بن گیا" سے حقیقی خدا کا تصوّر آنے لگ گیا کہ معاذ اللہ نعوذ باللہ نقل کفر، کفر نہ باشد وہ حقیقی خدا بن گیا۔ چونکہ وہ ان کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا تو اس نے "جی ( یا ہاں جی)" کے الفاظ ان کے سوال کے جواب میں بولے۔ خدا کے لفظ سے ہر بار زید کے ذہن میں حقیقی خدا کا ہی تصور آجاتا تھا، اور یہ بات زید کے دل کو بہت بری لگ رہی تھی
کیا اس طرح کا غلط مفہوم(کہ معاذ اللہ نعوذ باللہ نقل کفر، کفر نہ باشد وہ جقیقی خدا بن گیا) ذہن میں ہونے کے باوجود سوال پوچھنے پر ایک شخص ہاں/جی/ہاں جی جیسے الفاظ بولے تو کیا اس کہ ایمان پر فرق پڑے گا۔ جب کہ وہ ان کی بات کو دل میں بہت برا تصور کر رہا تھا، کیا ایسی صورت میں تجدید ایمان یا تجدید نکاح کا حکم لگے گا۔؟
اگر ایک شخص کا عقیدہ بالکل صحیح ہو لیکن ایسے حالات میں وہ کسی کفریہ بات میں جواباً معاذ اللہ نعوذ باللہ ہاں/جی/ہاں جی بول دے لیکن اگر کوئی شخص اس سے اسی وقت پوچھے تو وہ اس بات کو برا ہی بتلائے اور اسے وہ دل میں بھی شدید ترین برا جانتا ہو تو ایسے شخص کے ایمان کے بارے میں کیا حکم شرح ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ سوال میں ذکر کردہ جملہ "انسان کے پاس ذرا سا پیسہ یا طاقت آ جائے تو وہ اپنے آپ کو خدا بنا لیتا ہے(یا بن جاتا ہے)" اردو میں محاورتاً بولا جاتا ہے، معنی کے اعتبار سے یہ کلمۂ کفر نہیں ہے، اس لیے عام حالات میں اس کے جواب میں "ہاں یا جی یا جی ہاں" کہنے سے کفر لازم نہیں آتا، البتہ اگر جواب دینے والے کے ذہن میں حقیقی خدا کا تصوّر آجائے اور وہ مذکورہ جملہ کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے "ہاں، جی یا جی ہاں" کہے تو اس کا اس طرح تصدیق کرنا کفر ہوگا، لیکن صرف وسوسہ کی حد تک ذہن میں ایسی بات (کفریہ تصوّر) آنے سے کفر لازم نہیں آتا، اس لیے کہ کفر تصدیقِ قلبی ختم ہونے سے لازم آتا ہے، اور وسوسہ چونکہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے اس سے تصدیق ختم نہیں ہوتی، ایسے خیالات کو "ھواجس اور خواطر" کہتے ہیں۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ کا اس خیال کو برا سمجھنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اس کے روکنے پر قادر نہیں تھے، لہذا یہ وسوسہ ہے، اِس کو کفر قرار نہیں دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الصحیح لمسلم: (رقم الحدیث : 127، ط: دار احیاء التراث العربی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ: تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ۔
بذل المجہود: (303/6، ط: مکتبہ قاسمیہ ملتان)
فان الوسوسه من لوازم للبشرية فليس فيها كثير ضرر للنبي- صلى الله عليه وسلم- ولا لغيره واما الشك فلا يكون لمؤمن.
وفيه ايضا ً: (303/6، ط: مکتبہ قاسمیہ ملتان)
تحت قولهٖ (أو قد وجدتموه؟ قالوا: نعم. قال: ذاك صريح الإيمان) قال الخطابی معناہ أن صریح الإیمان هو الذی یمنعکم من قبول ما یلقیه الشیطان فی أنفسکم أو التصدق به حتی یصیر ذلك وسوسة ولا يتمكن من قلوبكم ولا يطمئن اليه انفسكم ولیس معناہ أن الوسوسة نفسها صریح الإیمان.
الاشباہ و النظائر: (ص: 150، ط: قدیمی کتب خانہ)
"السؤال معاد في الجواب" قال البزازي في فتاواه من اواخر الوكالة : وعن الثاني لو قال: امرأة زيد طالق أو عبده حر أو عليه المشي لبيت الله تعالی الحرام إن دخل ھذہ الفقر ؟ و قال زيد: نعم كان حالفًا بكله لان الجواب يتضمن اعادة ما في السؤال.
بحر المحیط: (269/4، ط:دار الكتبي)
فإن كان جوابًا، فإما أن يستقل بنفسه أو لا، فإن لم يستقل بحيث لايصح الابتداء به فلا خلاف في أنه تابع للسؤال في عمومه و خصوصه، حتى كأن السؤال معاد فيه، فإن كان السؤال عاما فعام أو خاصًّا فخاص۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی