سوال:
لیپ ٹاپ خریدا، پھر بعد میں ایکسٹینڈڈ وارنٹی (Extended Warranty) چار ہزار ڈالر کی خریدی، بعد میں لیپ ٹاپ (Laptop) کو نقصان ہوا تو کمپنی نے اسے مفت میں ٹھیک کر دیا، حالانکہ اگر وارنٹی نہ ہوتی تو یہ تقریباً دو ہزار ڈالر میں ٹھیک ہوتا، بعد میں یہ معلوم ہوا کہ ایکسٹینڈڈ وارنٹی خریدنا جائز نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو ایکسٹینڈڈ وارنٹی پہلے خریدی جا چکی تھی اور اس کے تحت لیپ ٹاپ ٹھیک کروا لیا گیا، اس کا کیا حکم ہے اور آئندہ اس معاملے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
جواب: وارنٹی خریدنے کا مذکورہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ اگر لیپ ٹاپ مقررہ وقت سے پہلے خراب نہیں ہوا اور اس کی مرمت وغیرہ کی ضرورت پیش نہیں آئی تو کمپنی کی طرف سے وارنٹی کے لئے لی جانے والی رقم واپس نہیں کی جاتی، بلکہ اسے کمپنی اپنے استعمال میں لے آتی ہے، جس کی وجہ سے کسٹمر کو اپنی ادا کی گئی رقم کا کچھ معاوضہ نہیں ملتا، لہٰذا اس معاملہ کو ختم کرنا فریقین کے لئے لازمی تھا، البتہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ نےاس وارنٹی کے تحت لیپ ٹاپ ٹھیک کروالیا ہے، لہٰذا جو رقم آپ نے وارنٹی کے لئے دی تھی، اس مرمت کو اس کا معاوضہ قراردے کر سابقہ معاملہ درست قرار دیا جاسکتا ہے۔
البتہ آئندہ کے لئے متبادل کے طور پر یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ جس چیز کی وارنٹی دی جا رہی ہو، اس چیز کو مدتِ متعینہ کے دوران کمپنی یا اس کا کوئی ملازم وقفے وقفے سے چیک کرتا رہے، اگر کوئی خرابی ہو تو درست کرلیا کرے، اس خدمت کی اجرت کے طور پر وارنٹی دیتے وقت دی گئی رقم کا لین دین جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحيح مسلم - عبد الباقي (3/ 1153)
عن أبي هريرة قال :نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر
رد المحتار : (518/4 ط. سعید)
"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة."
المبسوط للسرخسي (15/ 164)
فإن كان اشترط عليه حين دفع الغنم إليه أن يولدها ويرعى أولادها معها فهو فاسد في القياس؛ لأن المعقود عليه هو العمل فلا بد من إعلامه، وإعلامه ببيان محله وهنا محل العمل مجهول؛ لأنه لا يدري ما تلد منها وكم تلد وجهالة المعقود عليه مفسدة للعقد ولكنه استحسن ذلك فأجازه؛ لأنه عمل الناس ولأن هذه الجهالة لا تفضي إلى المنازعة بينهما، والجهالة بعينها لا تفسد العقد فكل جهالة لا تفضي إلى المنازعة فهي لا تؤثر في العقد والإبل والبقر والخيل والحمير والبغال في جميع ما ذكرنا كالغنم
حاشية ابن عابدين: (6/ 63 ط. الحلبی):
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه
کذا فی التبویب لجامعۃ دار العلوم کراچی (1684/100)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی