resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سورہ بقرہ کی آیت نمبر 62 کی تشریح

(34616-No)

سوال: سورہ بقرہ کی تفسیر پڑھنے کے دوران میری نظر ایک ایسے ترجمے سے گزری جس میں یہ بات سامنے آئی، "جو لوگ بھی، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا نصرانی یا صابی، اللہ و آخرت کے دن پر ایمان لے آئیں گے اور نیک عمل کریں گے، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے، اور ان کو نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے۔" (سورة البقرة؛ آیت نمبر62) اس میں مسلمانوں کے علاوہ دوسری امتوں کو بھی اللہ کی طرف سے اطمینان دیا جا رہا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟ جس قرآن کے ترجمے میں اس طرح کی باتیں لکھی ہوں، کیا اس کی اسٹیڈی جاری رکھنی چاہیے؟ جزاک اللہ

جواب: آپ کے سوال میں آیت مبارکہ کا ترجمہ درست ہے، واضح رہے کہ اس سے مراد پچھلی امّتوں کے وہ لوگ ہیں جو اللہ پر، قیامت پر اور اپنے وقت کے انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لائے، ان کے اس ایمان کا اچھا بدلہ ان کو ملے گا، البتہ جب حضورﷺ کی بعثت ہوگئی تو اب بعثت کے بعد یہ لازم ہے کہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان لائے، تفاسیر میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (النساء، الآية: ٤٨)
﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا ●﴾

تفسير ابن كثير: (1/ 427، ط: دار ابن الجوزي)
«وقال السدي: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا} الآية نزلت في أصحاب سلمان الفارسي؛ بينا هو يحدث النبي صلى الله عليه وسلم إذ ذكر أصحابه، فأخبره خبرهم؛ فقال: كانوا يصلون ويصومون ويؤمنون بك، ويشهدون أنك ستبعث نبيًا. فلما فرغ سلمان من ثنائه عليهم قال له نبي الله صلى الله عليه وسلم: "يا سلمان؛ هم من أهل النار"؛ فاشتد ذلك على سلمان؛ فأنزل الله هذه الآية؛ فكان إيمان اليهود أنه [من تمسك بالتوراة وسنة موسى عليه السلام حتى جاء عيسى؛ فلما جاء عيسى كان] من تمسك بالتوراة وأخذ بسنة موسى فلم يدعها ولم يتبع عيسى كان هالكًا. وإيمان النصارى أن من تمسك بالإنجيل منهم وشرائع عيسى كان مؤمنًا مقبولًا منه حتى جاء محمد صلى الله عليه وسلم، فمن لم يتبع محمدًا صلى الله عليه وسلم منهم ويدع ما كان عليه من سنة عيسى والإنجيل كان هالكًا.
وقال ابن أبي حاتم: وروي عن سعيد بن جبير نحو هذا.
(قلت): وهذا لا ينافي ما روى علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} الآية: فأنزل الله (تعالى) بعد ذلك: {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (85)} [آل عمران]؛ فإن هذا الذي قاله ابن عباس إخبار عن أنه لا يقبل من أحد طريقةً ولا عملًا إلا ما كان موافقًا لشريعة محمد صلى الله عليه وسلم بعد أن بعثه بما بعثه به؛ فأما قبل ذلك فكل من اتبع الرسول في زمانه فهو على هدًى وسبيل نجاة؛ فاليهود أتباع موسى عليه السلام الذين كانوا يتحاكمون إلى التوراة في زمانهم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat