resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سورہ بقرہ کی آیت نمبر 285 کا معنی اور مفہوم

(34630-No)

سوال: مفتی صاحب! سورہ بقرہ کی آیت نمبر 285 کا معنی اور مفہوم بتادیں۔

جواب: اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (سورة البقرة، الایة:285)
ترجمہ: یہ رسول (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے ( کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجّہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت کے طلبگار ہیں، اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کرجانا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن)
تشریح:
اس آیت کی تفسیر کے مفتی محمد شفیع صاحبؒ معارف القرآن: 787/1 میں لکھتے ہیں: "یعنی ایمان رکھتے ہیں رسول اس چیز پر جو ان کے پاس نازل ہوئی ان کے رب کی طرف سے، اس میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح فرمائی اور اس میں بجائے آپ کا نام مبارک لینے کے لفظ "رسول" فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تشریف کو واضح کر دیا۔ اس کے بعد فرمایا: والمؤمنون یعنی جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی وحی پر ایمان و اعتقاد ہے، اسی طرح عام مؤمنین کا بھی اعتقاد ہے، اور جو طرزِ بیان اس جملے میں اختیار فرمایا کہ پہلے پورا جملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کے ذکر میں لایا گیا، اس کے بعد مؤمنین کے ایمان کا علیحدہ تذکرہ کیا گیا، اس میں اشارہ ہے کہ اگرچہ نفسِ ایمان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سب مسلمان شریک ہیں، لیکن درجاتِ ایمان کے اعتبار سے ان دونوں میں بڑا فرق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم مشاہدہ اور سماع کی بنا پر ہے، اور دوسرے مسلمانوں کا علم ایمان بالغیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کی بنا پر۔
اس کے بعد اس ایمان مجمل کی تفصیل بتلائی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عام مؤمنین میں شریک تھا کہ وہ ایمان تھا اللہ تعالی کے موجود اور ایک ہونے پر اور تمام صفاتِ کاملہ کے ساتھ متصف ہونے پر، اور فرشتوں کے موجود ہونے پر، اور اللہ تعالی کی کتابوں اور سب رسولوں کے سچے ہونے پر۔
اس کے بعد اس کی وضاحت فرمائی کہ اس امت کے مؤمنین پچھلی امتوں کی طرح ایسا نہ کریں گے کہ اللہ تعالی کے رسولوں میں باہمی تفرقہ ڈالیں کہ بعض کو نبی مانیں اور بعض کو نہ مانیں، جیسا یہود نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانا مگر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہ مانا، اس امت کی یہ مدح فرمائی کہ یہ اللہ کے کسی رسول کا انکار نہیں کرتے، اور پھر صحابہ کرام کے اس جملے پر ان کی تعریف کی گئی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے موافق زبان سے کہا تھا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (285)"
(تفسیر معارف القرآن: سورہ بقرہ،آیت نمبر:285، 787/1، ط:ادارۃ المعارف کراچی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat