سوال:
محترم مفتی صاحب! ایک مدرسہ جس کے لیے کسی نے بغیر کرائے کے گھر دیا ہوا ہے، وقف نہیں ہے لیکن مدرسے کی وجہ سے کرایہ نہیں لیتے، اس مدرسے میں کافی طالبات پڑھ رہی ہیں، ان کی تھوڑی فیس رکھی ہوئی ہے اور استانیاں اس میں زیادہ ہیں، فیس کے پیسے کچھ مدرسے کی ضروریات میں لگ جاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں تو کیا وہ بچے ہوئے پیسے مدرسے کا مہتمم استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: مذکورہ صورت میں چونکہ مدرسہ وقف نہیں ہے، بلکہ مہتمم صاحب کی ملکیت ہے، اس لیے فیس کی رقم ان کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی، جسے وہ اپنی صوابدید پر جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع:(فصل في بيان حكم الملك،264/6،ط: دار الكتب العلمية)
ﻟﻠﻤﺎﻟﻚ ﺃﻥ يتصرف ﻓﻲ ﻣﻠﻜﻪ ﺃﻱ ﺗﺼﺮﻑ ﺷﺎء
رد المحتار:(کتاب الإجارات، مطلب الإستئجار علي الطاعات،55/6،ط:سعید)
(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - إستحسنوا الإستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الإمتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى.
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی