سوال:
بخدمت مفتیانِ کرام و علمائے عظام، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے کہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ایک شرعی مسئلے میں رہنمائی مطلوب ہے: میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں اور تنخواہ پر بچوں کو قرآن مجید پڑھاتا ہوں، مدرسے میں کھانے کا نظم نہ ہونے کی وجہ سے نابالغ بچے گھروں سے روٹی جمع کر کے لاتے ہیں، جسے چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ حفظ کرنے والے بالغ طلباء اور کبھی کبھار میں (بطورِ استاد) بھی کھاتا ہوں۔ جو روٹیاں بچ جاتی ہیں، انہیں میں ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فروخت کر دیتا ہوں۔ اس حوالے سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
کیا ان روٹیوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے میں بچوں کے لیے ان کی اجازت کے بغیر چائے، چینی وغیرہ خرید سکتا ہوں؟
میں ان پیسوں میں سے روزانہ 100 روپے اپنے ذاتی استعمال (چائے وغیرہ) کے لیے رکھ لیتا ہوں۔ کیا شرعی طور پر میرے لیے یہ رقم لینا جائز ہے؟
اگر میں ان نابالغ بچوں سے یہ کہوں کہ "آپ مجھے ان پیسوں میں اختیار دے دیں کہ میں جہاں چاہوں خرچ کروں"، تو کیا ان کی یہ اجازت شرعاً معتبر ہوگی؟
سب سے اہم سوال: ابھی تک میں جو رقم (100 روپے روزانہ کے حساب سے) اپنے ذاتی استعمال میں لا چکا ہوں، کیا میں وہ رقم ان چھوٹے (نابالغ) بچوں سے معاف کروا سکتا ہوں؟ اگر میں ان پر کوئی دباؤ ڈالے بغیر، خوش دلی سے ان سے معافی مانگ لوں تو کیا شرعی طور پر وہ رقم معاف ہو جائے گی یا مجھے وہ رقم ہر صورت واپس کرنی ہوگی؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں مدرسہ کی انتظامیہ کی اجازت سے بچی ہوئی روٹیوں کو فروخت کرکے ان کے بدلے حاصل ہونے والی رقم کو طلبہ کی ضروریات میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے، لیکن طلبہ کی ضروریات کا انتظام کرنا چونکہ مدرسے کے انتظامیہ کی ذمّہ داری ہوتی ہے، لہٰذا بچوں سے رقم کی اجازت لینے کی ذمہ داری آپ کے بجائے مدرسے والوں کی بنتی ہے۔
نیز یہ رقم چونکہ بچوں کی ملکیت ہوتی ہے، لہٰذا اس رقم میں اپنے ذاتی استعمال کے لیے سو روپے لینا جائز نہیں ہے، اور اب تک جتنی رقم آپ نے لی ہے، اس کا حساب کرکے وہ رقم واپس کرنا ضروری ہے، البتہ محلے والوں کی طرف سے چونکہ یہ کھانا عموماً بالغ اور نابالغ تمام طلباء کے لیے بھیجا جاتا ہے، اس لیے بالغ طلباء کے معاف کرنے سے ان کے حق کے بقدر رقم تو معاف ہوگی، لیکن اس کا حساب کرنا چونکہ مشکل ہے، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ جتنی رقم لی ہے، وہ واپس کردی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الفتاوى التاتارخانية: (177/8، ط: رشيدية)
سئل أبو نصر عن رجل جمع مال الناس علي أان ينفقه في بناء المسجد فربما يقع في يده من تلك الدراهم فأنفقها في حوائجه ثم يرد بدلها في نفقة المسجد من ماله أيسع له ذلك؟
قال: لا يسعه أن يستعمل من ذلك في حاجة نفسه فان عرف مالكه رد عليه وسأله تجديد الإذن فيه وإن لم يعرف إستأذن الحاكم فيما أستعمل وضمن."
الدر المختار: (173/6، ط: دار الفکر)
(وتصرف الصبي والمعتوه) الذي يعقل البيع والشراء (إن كان نافعا) محضا (كالإسلام والاتهاب صح بلا إذن وإن ضارا كالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض (لا وإن أذن به وليهما وما تردد) من العقود (بين نفع وضرر كالبيع والشراء توقف على الإذن) حتى لو بلغ فأجازه نفذ (فإن أذن لهما الولي فهما في شراء وبيع كعبد مأذون) في كل أحكامه.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی