resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مقروض کا قرض خواہ کے لیے قرض کے بدلے فریج قسطوں پر خرید کر دینا

(34629-No)

سوال: میں نے ایک شخص سے ایک لاکھ تین ہزار روپے اُدھار لیے تھے، جو اس نے فریج لینے کے لیے جمع کیے تھے، اب مجھے وہ رقم واپس کرنی ہے، لیکن میں ایک ساتھ پوری رقم ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ میں نے اس شخص سے کہا ہے کہ میں آپ کو فریج خرید کر قسطوں پر دے دیتا ہوں تو کیا ایسا کرنا درست ہے اور اگر ایسا کرنا درست نہیں ہے تو پھر کون سی صورت ہو سکتی ہے کہ میں یہ رقم آسانی سے ادا کر سکوں؟
میرے ذمہ ایک لاکھ تین ہزار روپے ہیں، اگر میں فریج قسطوں پر لیتا ہوں اور اس کی کل قیمت اندازاً نوے ہزار روپے بنتی ہے تو کیا باقی بچی ہوئی رقم میں نقد (کیش) ادا کر سکتا ہوں تاکہ کل رقم ایک لاکھ تین ہزار پوری ہو جائے؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: سوال میں مذکورہ طریقے کے مطابق اگر آپ دونوں کے درمیان قرض کی ادائیگی طے ہو جائے تو اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنا بھی جائز ہےکہ آپ فریج پہلے اپنے لیے خریدیں، پھر باہمی رضامندی سے مذکوہ شخص کو یہ فریج اس کے قرض کی مد میں ادا کردیں، اور یہ بھی جائز ہے کہ آپ وکیل بن کر فریج کی خریداری اس شخص کے لیے کردیں، اس کے بعد دکاندار اور آپ دونوں کی رضامندی سے آپ قرض کے بدلے فریج کی قیمت قسطوار ادا کرتے رہیں۔
واضح رہے کہ دونوں صورتوں میں فریج کی قیمت کے علاوہ قرض میں سے جو رقم باقی رہ جائے، وہ اس شخص کو ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

فتح القدير للكمال ابن الهمام: (110/8، ط: دار الفكر)
(لأن الديون تقضى بأمثالها) لا بأعيانها (إذ قبض الدين نفسه) أي قبض نفس الدين (لا يتصور) لأنه وصف ثابت في ذمة من عليه (إلا أنه جعل استيفاء العين حقه من وجه) استثناء من قوله لأن الديون تقضى بأمثالها: يعني أن الديون وإن كانت تقضى بأمثالها لا بأعيانها لما ذكرنا آنفا، إلا أن قبض المثل جعل استيفاء لعين حق الدائن من وجه ولهذا يجبر المديون على الأداء، ولو كان تملكا محضا لما أجبر عليه، وكذا إذا ظفر الدائن بجنس.

الهداية: (99/3، ط: دار إحياء التراث العربي)
قال: "وتصح الحوالة برضا المحيل والمحتال والمحتال عليه" أما المحتال فلأن الدين حقه وهو الذي ينتقل بها والذمم متفاوتة فلا بد من رضاه، وأما المحتال عليه فلأنه يلزمه الدين ولا لزوم بدون التزامه، وأما المحيل فالحوالة تصح بدون رضاه ذكره في الزيادات لأن التزام الدين من المحتال عليه تصرف في حق نفسه وهو لا يتضرر به بل فيه نفعه لأنه لا يرجع عليه إذا لم يكن بأمره.

الفتاوى الهندية: (299/3، ط: دار الفكر)
أما الحوالة المقيدة بالدين الذي كان للمحيل على المحتال عليه فصورتها رجل له ألف درهم أحال المطلوب الطالب بالألف على رجل للمطلوب عليه ألف درهم دينا على أن يؤديها من الألف التي للمطلوب عليه كذا في النهاية وإذا كانت الحوالة مقيدة بالعين التي هي للمحيل في يد المحتال عليه، ثم إن المحتال وهب للمحتال عليه ملكها عليه كذا في خزانة المفتين.

الدر المختار مع رد المحتار: (347/5، ط: دار الفکر)
وتصح أيضا بدين خاص فصارت الحوالة ال مقيدة ثلاثة أقسام، وحكمها أن لا يملك المحيل مطالبة المحتال عليه ولا المحتال عليه دفعها للمحيل، مع أن المحتال أسوة لغرماء المحيل بعد موته، بخلاف الحوالة المطلقة كما بسطه خسرو وغيره.
(قوله وتصح أيضا بدين خاص) بأن يحيله بدينه الذي له على فلان المحال عليه فتح وفي الخلاصة عن التجريد لو كان للمحيل على المحتال عليه دين فأحال به مطلقا ولم يشترط في الحوالة أن يعطيه مما عليه فالحوالة جائزة ودين المحيل بحاله وله أن يطالبه به. اه. ومثله في البزازية ومقتضاه أنها لا تكون مقيدة ما لم ينص على الدين.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance