عنوان: تلاوت کے دوران ذکر اذکار کرنا کیسا ہے؟(103538-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! پوچھنا یہ تھا کہ میں جب صبح وین میں اسکول جاتی ہوں، تو راستے میں اسکول وین والا تلاوتِ قرآن لگا دیتا ہے، جبکہ میں سارے راستے دعائیں ذکر وغیرہ کرتی ہوئی جاتی ہوں، اب کیا میں تلاوت کے دوران ذکر وغیرہ کر سکتی ہوں یا تلاوت ختم ہونے کے بعد کروں؟ کیونکہ تلاوت سننے کا بھی حکم ہے۔

جواب: واضح رہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کے دوران خاموش رہنے اور غور سے اس کو سننے کا حکم نماز اور خطبہ کے ساتھ خاص ہے۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ تلاوت ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے سے سنی جارہی ہے، جس کو سننا شرعاً مستحب ہے، لہذا اگر ذکر کے دوران تلاوت لگا دی جائے، تو ذکر چھوڑ کر تلاوت قرآن سننا ضروری نہیں ہے، البتہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ تلاوت کے دوران ذکر کو موقوف کردینا چاہیے، اور تلاوت کو سننا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کذا فی التفسیر المظھری:

اختلف العلماء في وجوب الاستماع والإنصات علی من ہو خارج الصلاۃ یبلغہ صوت من یقرأ القرآن في الصلاۃ أو خارجہا، قال البیضاوي: عامۃ العلماء علی استحبابہا خارج الصلاۃ، وقال ابن الہمام: وفی کلام أصحابنا ما یدل علی وجوب الاستماع في الجہر بالقراء ۃ مطلقا۔

(آیت:۲۰۴،منسورۃ الأعراف،ج:۳،ص:۴۸۰،ط:مکتبہ زکریا دیوبند)

کذا فی تفسیر المنار:

وحکی ابن المنذر: الاجماع علی عدم وجوب الاستماع والانصات فی غیر الصلٰوۃ والخطبۃ وذالک ان یجابھما علی کل من یسمع احداً یقرأ فیہ حرج عظیم لانہ یقتضی ان یترک لہ المشتغل بالعلم علمہ والمشتغل بالحکم حکمہ الخ۔

(تفسیر المنار، ۵۵۲،۵۵۳/۹)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 277

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com