resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: پلاٹ خریدنے کی صورت میں مکمل رقم کا انتظام نہ کرنے پر بیعانہ ضبط کرنا یا اس میں کٹوتی کرنا

(35641-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! دو دوستوں نے ایک پانچ مرلہ مشترکہ پلاٹ لیا، دونوں نے ایک ایک لاکھ بیعانہ دیا، باقی پیمنٹ چار ماہ کے اندر دینے کا فیصلہ ہوا، مقررہ وقت سے دو ہفتے پہلے ایک دوست یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میرے پاس پیسوں کا انتظام نہیں ہوا، لہذا میں نے پلاٹ واپس کرنا ہے۔
اب مالک مکان کہتا ہے کہ میں نے بیعانہ واپس نہیں کرنا ہے یا بیعانہ میں کٹوتی کرنی ہے تو ان دو دوستوں میں سے دونوں سے کٹوتی ہوگی یا اس ایک سے جو پیسوں کا انتظام نہ کرسکا؟ اور بیعانہ واپس نہ کرنا یا اس میں کٹوتی کرنا کیسا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ پلاٹ کی خرید و فروخت ہونے کے بعد خریدار کی طرف سے پیشگی رقم، جو بیعانہ کے نام سے دی جاتی ہے، وہ اس پلاٹ کی طے ہونے والی قیمت ہی کا ایک حصّہ ہوتی ہے، لہذا اگر کسی وجہ سے سودا کینسل ہو جائے تو اس رقم کو ضبط کرنا یا اس میں کٹوتی کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ وہ رقم خریدار کو واپس کرنا شرعاً ضروری ہے، تاہم سودا کینسل کرنے کی وجہ سے اگر کوئی حقیقی نقصان (مثلاً: فیس یا دیگر قانونی مراحل کے اخراجات) پیش آئے ہوں تو اتنی کٹوتی کرنے کی گنجائش ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں محض سودا کینسل ہونے کی وجہ سے بیعانہ ضبط کرنا یا اس میں کٹوتی کرنا جائز نہیں ہے، ہاں! اگر پہلا سودا کرنے میں اگر کوئی حقیقی اخراجات ہوئے ہوں تو رقم کا انتظام نہ کر سکنے والے فریق سے اس حد تک کٹوتی کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

اعلاء السنن: (6026/12
"قال الموفق فی"المغنی" العربون فی البیع ھو ان یشتری السلعۃ ۔۔۔ فیدفع الی البائع درھما او غیرہ علی انہ اخذ السلعۃ احتسب بہ من الثمن والم یاخذھا فذالک للبائع۔۔۔۔ وقال ابو الخطاب (من الحنابلۃ ) : انہ لایصح، وھو قول الشافعی و اصحاب الرای".

فقه البیوع: (113/1)
العربون والعربان : بیع فسرہ ابن منظور بقولہ:" ھو ان یشتری السلعۃ ویدفع الی صاحبھا شیئا یلی انہ ان امضی البیع جائز حسب من الثمن، وان یمض البیع، کان لصاحب السلعۃ، ولم یرتجعہ المشتری۔
واختلف الفقہاء فی جواز العربون: فقال الحنفیۃ والمالکیۃ واشافعیۃ وابو الخطاب من الحنابلۃ : انہ غیر جائز".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial