عنوان: رخصتی سے قبل طلاق یا خلع ہونے کی صورت میں عدت، مہر اور لڑکی کو سسرال کی طرف سے ملنے والے تحائف کا حکم (103616-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! اگر کسی لڑکی کو نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے یا وہ خلع لے لے، تو کیا اس لڑکی پر عدت لازم ہوگی، اور اگر لازم ہوگی، تو کتنے دنوں کی عدت لازم ہوگی؟ مزید یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ حق مھر کا جو وعدہ ہوا تھا، یا اسی طرح لڑکی کو سسرال کی طرف سے جو تحائف اور زیور ملے تھے، ان کا کیا حکم ہے؟

جواب: ١- رخصتی سے قبل طلاق یا خلع کی صورت میں عورت پر عدت واجب نہیں ہوتی۔
٢- رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں شوہر پر نصف مہر کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، جبکہ خلع میں عورت شوہر کو مال دے کر اس سے خلاصی حاصل کرتی ہے، بعض اوقات اپنے مہر ہی کو بدل خلع کے طور پر دے دیتی ہے، یا جس مالیت پر فریقین متفق ہو جائیں، اس پر فیصلہ ہوتا ہے۔
٣- لڑکی کو اپنے سسرال والوں کی طرف سے شادی کے موقع پر ملنے والے تحائف اور زیورات اگر بطور ملکیت دیے گئے ہوں، تو وہ لڑکی کی ملکیت ہوں گے اور اگر عاریت کے طور پر دیے گئے ہوں، تو وہ تحائف واپس کرنا ہوں گے، اور اگر ملکیت اور عاریت کی صراحت نہ ہو، تو اس میں بارے میں عرف و رواج کو دیکھا جائے گا، اگر ان کی برادری میں عرف یہ ہو کہ وہ تحائف لڑکی کو بطور ملکیت دیے جاتے ہیں، تو نکاح سے علیحدگی کے موقع پر ان تحائف کی واپسی لازم نہیں ہوگی، اور اگر ان کا عرف و رواج یہ ہو کہ وہ تحائف لڑکی کو بطور عاریت دیے جاتے ہوں، نہ کہ بطور ملکیت، تو ایسی صورت میں نکاح ختم ہونے کے بعد ان تحائف کو سسرال والوں کو واپس کر دینا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی مجمع الأنھر:
"ولزم نصفہ أي المسمیٰ بالطلاق قبل الدخول، وقبل الخلوۃ الصحیحۃ".
(مجمع الأنہر، قدیم۱/۳۴۶، جدید دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وفی الھندیۃ:
"إن طلقہا علی مال، فقبلت وقع الطلاق، ولزمہا المال، وکان الطلاق بائناً".
(الفتاوی الہندیۃ، الفصل الثالث: في الطلاق علی المال)
رجل خلع امرأتہ بمالہا علیہ من المہر-إلی-کان الخلع بمہرہا، إن کان المہر علی الزوج یسقط۔ (الہندیۃ و مجمع الأنہر، دارالکتب العلمیۃ، بیروت۲ /۱۰۳)

وفی التاتارخانیۃ:
"وکل خلوۃ لایمکن معہا الوطئ کخلوۃ المریض-إلی-فلا عدۃ، وفي الخانیۃ: وکذا لو طلقہا قبل خلوۃ".
(الفتاوی التاتارخانیۃ ۵ /۲۳۲، رقم:۷۷۳۴ )

وفی رد المحتار:
"قلت: ومقتضاہ أن المراد من استمرار العرف ہنا غلبتہ ومن الاشتراک کثرۃ کل منہما إذ لا نظر إلی النادر؛ ولأن حمل الإستمرار علی کل واحد من أفراد الناس في تلک البلدۃ لا یمکن، ویلزم علیہ إحالۃ المسألۃ إذ لا شک في صدور العاریۃ من بعض الأفراد، والعادۃ الغاشیۃ الغالبۃ في أشراف الناس وأوساطہم دفع ما زاد علی المہر من الجہاز تملیکاً، سوی ما یکون علی الزوجۃ لیلۃ الزفاف من الحلیی والثیاب فإن الکثیر منہ أو الأکثر عاریۃ۔ قال الشیخ الإمام الأجل الشہید: المختار للفتویٰ أن یحکم بکون الجہاز ملکاً لا عاریۃً؛ لأنہ الظاہر الغالب إلا في بلدۃ جرت العادۃ بدفع الکل عاریۃ فالقول للأب، وأما إذا جرت في البعض یکون الجہاز ترکۃ یتعلق بہا حق الورثۃ وہو الصحیح، ولعل وجہہ أن البعض الذيیدعیہ الأب بعینہٖ عاریۃ لم تشہد لہ بہ العادۃ بخلاف ما لو جرت العادۃ بإعارۃ الکل فلا یتعلق بہ حق ورثتہا بل یکون کلہ للأب".
(رد المحتار: ۴؍۳۰۶-۳۰۹)

وفی شرح عقود رسم المفتی:
"الثابت بالعرف کالثابت بالنص". (رسم المفتي: ۲۵)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 1018

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.