سوال:
السلام علیکم، میرا سوال زکوۃ کے بارے میں ہے، میں کرایہ پر دینے کی نیت سے گھر تعمیر کر رہا ہوں تاکہ آمدنی حاصل ہو سکے، گھر کی تعمیر تقریباً دو مہینے میں مکمل ہو گی تو کیا زمین اور تعمیر کے اخراجات پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ جو مکان کرائے پر دینے کی نیت سے تعمیر کیا جائے، اس مکان کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ اس سے حاصل ہونے والے کرایہ کی رقم تنہاء یا دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے بقدر ہو تو سال پورا ہونے کے بعد اس کرایہ کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی، بشرطیکہ کرائے سے حاصل ہونے والی رقم موجود ہو۔
نیز جو رقم آپ نے تعمیرات کے خرچ کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، وہ تنہا یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچتی ہو تو سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے، البتہ سال گزرنے سے پہلے اگر وہ رقم خرچ ہوگئی تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
حاشية ابن عابدين: (2/ 262،ط: سعید)
فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول۔
الفقه الإسلامي وأدلته: (3/ 1947،ط: دارالفکر)
اتجه رأس المال في الوقت الحاضر لتشغيله في نواحٍ من الاستثمارات غير الأرض والتجارة، وذلك عن طريق إقامة المباني أو العمارات بقصد الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر (سفن) وسيارات، ومزارع الأبقار والدواجن وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها وإنما في ريعها وغلتها أو أرباحها.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی