resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: یونیورسٹی میں داخلہ مکمل ہونے کے بعد کلاسز نہ لینے کی صورت میں فیس کی ادائیگی کا شرعی حکم

(36677-No)

سوال: میں نے سال 2019 میں یونیورسٹی میں ماسٹرز پروگرام میں داخلہ لیا تھا, کام کے زیادہ دباؤ اور مالی مشکلات کی وجہ سے میں کلاسز اٹینڈ نہ کر سکا اور بغیر کسی باقاعدہ اطلاع کے ماسٹرز پروگرام چھوڑ دیا, چونکہ کورس چھوڑنے کی مقررہ مدت گزر چکی تھی، اس لیے یونیورسٹی کی جانب سے اس سمسٹر کی فیس پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
اس کے بعد میں نے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھی اور مستقبل میں بھی مزید تعلیم حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم میرے یونیورسٹی اکاؤنٹ میں اب بھی بقایا رقم ظاہر ہو رہی ہے، جبکہ یونیورسٹی نے اب تک اس رقم کی ادائیگی کا باقاعدہ مطالبہ نہیں کیا۔
شرعاً دریافت کرنا یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس بقایا رقم کی ادائیگی لازم ہے یا چونکہ میں نے تعلیم حاصل نہیں کی اور یونیورسٹی نے مطالبہ بھی نہیں کیا، اس لیے اس رقم کو ادا نہ کرنا جائز ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ یونیورسٹی میں داخلہ مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سمسٹر (Semester) کے دوران آپ کو استفادہ کا مکمل اختیار دیا تھا، لیکن آپ نے یونیورسٹی کو باقاعدہ اطلاع دیے بغیر یونیورسٹی میں اپنی کلاسز لینا چھوڑ دیں، اور اس سے استفادہ نہیں کیا، نیز آپ کی یونیورسٹی کے اکاؤنٹ میں آپ کے ذمّہ بقایا رقم کا ظاہر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوئی، ان کا فیس سے متعلّق مطالبہ ابھی بھی برقرار ہے، اس لیے اصولی طور پر اس سمسٹر کی مکمل فیس ادا کرنا آپ کے ذمّہ لازم ہوگی۔
البتہ فیس بر وقت ادا نہ کرنے پر یونیورسٹی کی طرف سے جو جرمانہ لگایا گیا ہے، یونیورسٹی کے لیے وہ لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ مالی جرمانہ کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الحدود، باب التعزیر، 61/4، ط: سعید)
مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اه. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اه ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان۔

البحر الرائق: (کتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، 44/5، ط: دار الكتاب الإسلامي)
أفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ . والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things