resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: خواتین کے لیے فوٹو شوٹ (photo shoot) کی مخلوط مجالس میں شرکت کا حکم

(42016-No)

سوال: یونیورسٹی میں گریجویشن سے پہلے ایک اختیاری فوٹو شوٹ کا دن رکھا گیا ہے، جس میں مرد اور خواتین دونوں موجود ہوں گے۔ میں پہلے ہی تعلیم کی ضرورت کی وجہ سے یونیورسٹی جاتی ہوں، لیکن یہ پروگرام اختیاری ہے اور زیادہ تر تصاویر یادوں کے لیے ہیں۔
اگر میں حیا اور پردے کا خیال رکھتے ہوئے جاؤں اور غیر ضروری میل جول سے بچوں تو کیا اس میں شرکت کرنا جائز ہوگا یا اس سے بچنا بہتر ہے؟
کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ میں جاؤں، کیونکہ پھر شاید میں اپنے دوستوں سے دوبارہ نہ مل سکوں، لیکن ساتھ ہی مجھے یہ ہچکچاہٹ بھی ہوتی ہے کہ کہیں مردوں کی موجودگی یا غیر ضروری شرکت کی وجہ سے یہ گناہ نہ شمار ہو۔

جواب: واضح رہے کہ مرد و عورت کا مخلوط اجتماع جائز نہیں ہے، اور خواتین کے لیے بلا ضرورت مخلوط مجالس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے، اس حکم کی شدّت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن شریف میں صحابہ کرامؓ کو حکم دیا گیا ہے کہ جب كسی دعوت وغیرہ میں نبی ﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ سے کوئی چیز (برتن یا کھانا وغیرہ) لینا ہو تو پردہ کے پیچھے سے لو، ارشادِ گرامی ہے :
﴿.. وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ... ●﴾
ترجمہ: "جب تمہیں نبیؓ کی ازواج سے کچھ مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو، یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہوگا"۔
جب امّہات المومنینؓ جیسی پاکیزہ خواتین کو یہ حکم ہے تو دیگر خواتین کے لیے مخلوط محافل کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟
نیز حضرت عمرؓ نے فتنہ کے اندیشہ کے پیش نظر اپنے زمانہ خلافت میں خواتین کو باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد میں آنے سے روک دیا تھا، حالانکہ اس زمانے میں ان فتنوں کا تصوّر بھی نہ تھا جو ہمارے زمانے میں موجود ہیں۔ اور فوٹو شوٹ ميں تو عام طور پر مرد و خواتين زيب و زينت اختيار كركے بَن سَنوَر كر نكلتے ہیں، اور خواتین کو بَن سنور کر نکلنے سے بھی قرآن شریف میں سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔
اس لیے پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے سوال میں ذکر کردہ فوٹو شوٹ کی مخلوط مجلس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الكريم: (الأحزاب، الآية: ٥٣)*
﴿.. وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ... ●﴾

*القرآن الكريم: (الأحزاب، الآيتان: ٣٣-٣٤)*
﴿ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ● وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ●﴾

*الفتاوى الكبرى الفقهية لابن حجر المكي الهيتمي: (1/ 203، المكتبة الإسلامية)*
ويعتزلن المسلمين وقد منع هذا في غير هذه الأزمان لما في حضورهن من المفاسد المحرمة قال حجة الإسلام في الإحياء وقد كان أذن رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء في حضور المساجد والصواب الآن المنع إلا العجائز بل استصوب ذلك في زمن الصحابة رضي الله عنهم حتى قالت عائشة رضي الله عنها وذكر ما مر عنها وقال فيه أيضا في كتاب الأمر بالمعروف ويجب منع النساء من حضور المساجد للصلاة ومجالس الذكر إذا خيفت الفتنة بهن فهذه أقاويل العلماء في اختلاف الحكم فيها بتغير الزمان. وأهل الأقاويل المذكورة هم جمهور العلماء من المجتهدين والأئمة المتقين والفقهاء الصالحين الذين هم من الممهرين فيجب الأخذ بأقاويلهم؛ لأنهم علم الأمة واختيارهم لنا خير من اختيارنا لأنفسنا ومن خالفهم فهو متبع لهواه فإن قيل فما الجواب عن إطلاق أهل المذهب غير من مر فالجواب أن محله حيث لم يريدوا كراهة التحريم ما إذا لم يترتب على خروجهن خشية فتنة وأما إذا ترتب ذلك فهو حرام بلا شك كما مر نقله عمن ذكر والمراد بالفتنة الزنا ومقدماته من النظر والخلوة واللمس وغير ذلك.
ولذلك أطلقوا الحكم في هذه المسألة بدون ذكر محرم يقترن بالخروج وأما عند اقتران محرم به أو لزومه له فالصواب القطع بالتحريم ولا يتوقف في ذلك فقيه ويتضح الأمر بذكر تلك المحرمات المقترنة بالخروج فمنها أن خروجها متبرجة أي: مظهرة لزينتها منهي عنه بالنص قال تعالى {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى} [الأحزاب: 33] وروى ابن حبان والحاكم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال «يكون في أمتي رجال يركبون على سرج كأشباه الرجال ينزلون على أبواب المساجد نساؤهم كاسيات عاريات على رءوسهن كأسنمة البخت العجاف العنوهن. فإنهن ملعونات» وفي حديث آخر «مائلات مميلات وفيه فإنهن لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا» ولا يخفى أن مجموع هذه الصفات لا تحصل للمرأة وهي في بيتها بل يكون ذلك في خروجها من بيتها عند حصول هذه الهيئة فيها وخوف الافتتان بها ولذلك شرط العلماء لخروجها أن لا تكون بزينة ولا ذات خلاخل يسمع صوتها فكيف يجوز لأحد أن يرخص في سبب اللعن، وحرمان الجنة بالقرآن والسنة والمذهب القائل بأن كل حالة يخاف منها الافتتان حرام يدل على أن التبرج حرام ومنها تحريم نظر الأجانب إليها ونظرها إليهم كما صححه النووي ومنها مزاحمة الرجل في المسجد أو الطريق عند خوف الفتنة فإن ذلك حرام وروى أبو داود من حديث أبي أسيد الأنصاري أنه «سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق فقال النبي صلى الله عليه وسلم للنساء استأخرن فإنه ليس لكن أن تحففن الطريق عليكن بحافات الطريق» قال فكانت المرأة تلصق بالجدار حتى أن ثوبها ليعلق بالجدار من لصوقها به فهذه الأحاديث دالة على منع المزاحمة بين الرجل الأجنبي والمرأة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things