سوال:
مفتی صاحب! آج کل موبائل میں ایک ایپ آئی ہوئی ہے، جس میں پندرہ ہزار (15000) روپے ڈال کر گیم کھیلنے سے ڈبل پیسے ملتے ہیں، اس میں مزید آٹھ آدمی شامل کرتے ہیں تو منافع مزید ملتا ہے تو کیا یہ گیم کھیلنا اور اس کی رقم لینا جائز ہے؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ ایپ (App) کے ذریعہ گیم کھیلنے کا کام حاصل کرنے کے لئے پیشگی رقم دی جاتی ہے، یہ رقم رشوت میں داخل ہے جو کہ ناجائز ہے، نیز عام طور پر اس طرح کے گیمز (Games) اور ایپس (Apps) میں دیگر غیر شرعی امور (فحاشی، موسیقی، جوا وغیرہ یا ان کی تشہیر) بھی پائے جاتے ہیں، لہٰذا اس قسم کی خرابیوں کے موجود ہوتے ہوئے اس قسم کی ایپز (Apps) سے پیسے کمانا اور دیگر لوگوں کو اس میں شامل کرنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (4/ 192)
ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس.
حاشية ابن عابدين (6/ 4):
(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية
حاشية ابن عابدين (5/ 362):
ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه. الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط
کذا فی التبویب لجامعۃ دار العلوم کراچی ( 62/2719)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی