resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تاریخِ پیدائش، ٹیلی پیتھی اور جنّات کے ذریعے علاج کرنے والے شخص کا شرعی حکم

(42069-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! براہِ کرم میرے ان سوالات کو معاف فرمائیں، لیکن اگر آپ کے لیے زیادہ زحمت نہ ہو تو مجھے ان کے جوابات درکار ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص خود کو جائز دینی معالج (رقیہ کرنے والا) ظاہر کرتا ہے، لیکن وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جنات کو قابو میں رکھ سکتا ہے اور انہیں کسی بھی ایسے شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے چھوڑ سکتا ہے جسے وہ برا سمجھتا ہے، تاکہ لوگوں کی حفاظت کی جا سکے۔
وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جس شخص کا علاج کرنا چاہے، اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے، چاہے وہ کسی دوسرے ملک میں ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ وہ بغیر کسی ذاتی ملاقات یا عام ذرائع ابلاغ کے، بلکہ روحانی طور پر (ٹیلی پیتھی کے ذریعے) مریض سے رابطہ کر سکتا ہے۔
یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ وہ مریض کے ذہن کے اندر اپنی آواز سنا سکتا ہے، جس کے ذریعے اسے بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اور اس طرح اسے گناہوں سے بھی بچاتا ہے۔
وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ کسی شخص کا علاج دور دراز ملک یا مقام پر موجود ہونے کے باوجود کر سکتا ہے، بلکہ اس کی مدد اس کے علم کے بغیر بھی کر سکتا ہے۔ اس کے مطابق یہ سب کام لوگوں کی تاریخِ پیدائش، پتہ اور نام لے کر کیا جاتا ہے۔
کیا ایسا شخص واقعی ایک جائز دینی معالج ہے؟ کیا یہ اوصاف ایک صحیح رقیہ کرنے والے کے ہیں یا پھر یہ کسی جادوگر کی علامات ہیں؟
اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے، آپ کو برکت عطا کرے، اور اپنے فضل و رحمت سے آپ کو مزید بھلائی عطا فرمائے۔ آمین

جواب: مذکورہ شخص کے دعوے مثلاً: "جنّات کو قابو میں رکھ کر دوسروں کو نقصان پہنچانا، دور بیٹھے لوگوں کے حالات معلوم کرنا، بغیر کسی ظاہری ذریعے کے ذہن میں اپنی آواز پہنچانا، بغیر اجازت علاج کرنا اور نام، پتہ یا تاریخِ پیدائش کی بنیاد پر عملیات کرنا" یہ سب شریعت کی رو سے نہ صرف بے اصل بلکہ عموماً جادو، کہانت اور جنّات کی مدد لینے کی واضح علامات ہیں؛ کیونکہ اسلام میں غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور کسی انسان کو جنّات پر ایسا اختیار حاصل نہیں کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے استعمال کرے، نیز جائز رقیہ صرف قرآنِ مجید، مسنون دعاؤں اور واضح اذکار کے ذریعے، مریض کی موجودگی یا کم از کم اس کی اجازت و آگاہی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اس میں نہ خفیہ و غیر مرئی دعوے ہوتے ہیں اور نہ ہی اس طرح کے پراسرار طریقے، لہٰذا غالب گمان یہ ہے کہ ایسا شخص جائز رقیہ کرنے والا نہیں، بلکہ اس کا شمار مشتبہ لوگوں کے زیادہ قریب ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علاج کے لیے مستند اور شرعی طریقوں ہی کو اختیار کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

فتح الباري شرح صحيح البخاري (195/10، مطبع: دار المعرفة، بيروت)
«قد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته، وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى.»

رد المحتار على الدر المختار (حاشية ابن عابدين): (364/6، مطبع: دار الفكر، بيروت)
«إنما تكره الرقية إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو، لعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به.»

البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (130/5، مطبع: دار الكتاب الإسلامي، القاهرة)
«يكفر بقوله أنا أعلم المسروق، أو أنا أخبر عن إخبار الجن إياي... ومن أتى كاهنا فصدقه بما يقول كفر.»
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق جلد: 3، صفحہ نمبر: 114 مطبع: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق، القاهرة : «والكاهن هو الذي يخبر عن المغيبات في المستقبل... وقيل: الذي يخبر عما في الضمير.»

الفتاوى الهندية (الفتاوى العالمكيرية): (356/5، مطبع: دار الفكر، بيروت)
«وفي النوازل: إذا تعزم الرجل على المصروع بشيء من القرآن أو بأسماء الله تعالى فلا بأس به، وإن كان بشيء سوى ذلك لا يجوز، كذا في التتارخانية.»

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things