سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ کیا مسجد الحرام کے ائمہ کرام یا دیگر مشہور قرّاء کی تلاوتِ قرآن کو ان کی اجازت کے بغیر یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا جائز ہے؟ جبکہ پہلے ہی بہت سے لوگ ان کی تلاوتیں استعمال کر رہے ہیں۔
جواب: واضح رہے ک تلاوت قرآن کریم کا یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا بذات خود جائز ہے، تاہم اگر کسی ادارے یا چینل نے ان کے حقوقِ نشر (copy rights) اپنے لیے محفوظ کیے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر اس کو اپلوڈ کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا، البتہ ایسی ویڈیوز جن کے حقوقِ نشر (copy rights) محفوظ نہ ہوں یا ان کی طرف سے عام اجازت ہو تو ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کی گنجائش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل*
*السنن الكبرى للبيهقي: (ﺑَﺎﺏُ ﻣَﻦْ ﻏَﺼَﺐَ ﻟَﻮْﺣًﺎ ﻓَﺄَﺩْﺧَﻠَﻪُ ﻓِﻲ ﺳَﻔِﻴﻨَﺔٍ ﺃَﻭْ ﺑَﻨَﻰ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺟِﺪَاﺭًا، 166/6، ط: دار الكتب العلمية ،بيروت)*
ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺣُﺮَّﺓَ اﻟﺮَّﻗَﺎﺷِﻲِّ، ﻋَﻦْ ﻋَﻤِّﻪِ، ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ اﻟﻠﻪِ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ: " ﻻَ ﻳَﺤِﻞُّ ﻣَﺎﻝُ اﻣْﺮِﺉٍ ﻣُﺴْﻠِﻢٍ ﺇِﻻَّ ﺑِﻄِﻴﺐِ ﻧَﻔْﺲٍ ﻣِﻨْﻪُ "
*فقه البيوع: (حق الابتكار وحق الطباعة والنشر،286/1، ط: معارف القرآن)*
فالراجح عندنا ،واللہ سبحانہ أعلم،أن حق الابتکار والتألیف حق معتبر شرعا ،فلا یجوز لاحد أن یتصور فی ھذا الحق بدون إذن من المبتکر أو المؤلف ،وینطبق ذلک علی حقوق برامج الکمبیوتر أیضا.ولکن التعدي علی ھذا الحق إنما یتصور إذا أنتج أحد مثل ذلک المنتج أو الکتاب أو البرنامج بشکل واسع للتجارۃفیہ، أوبقصد الاسترباح، أما إذا صورہ لاستعمالہ الشخصی،أو لیھبہ إلی بعض أصدقائہ بدون عوض،فإن ذلک لیس من التعدي علی حق الابتکار.
*الاشباه والنظائر : (كتاب الغصب، ص: 242، ط: دار الكتب العلمية-بيروت)*
ﻻَ ﻳَﺠُﻮﺯُ اﻟﺘَّﺼَﺮُّﻑُ ﻓﻲ ﻣﺎﻝ ﻏﻴﺮﻩ ﺑﻐﻴﺮ ﺇﺫﻧﻪ
واللّٰہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی