سوال:
اللہ کا خوف رسالے میں پڑھا ہے کہ ایک صحابی کے پاس دو دن کا کھانا تھا، آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تیرے پاس تین دن کا کھانا ہوتا تو تُو بھاری بوجھ والوں میں سے ہوتا ۔
یہاں تو حال ہی اور ہے ہم لوگ تو سالہا سال کے کھانا ذخیرہ کر کے رکھتے ہیں گندم لوگ پورے سال کی ہی خرید کے رکھ لیتے ہیں،ہم لوگ تو بہت نعمتیں استعمال کرتے ہیں، نا چاہتے ہوئے بھی یہ اب ضروری ہے، گھر ہی ایسے ہیں کس کا گھر ہے جس میں پنکھا، بیڈ نہ ہو اور چھت کی صورت میں ٹھنڈا سایہ ہے ، اب یہ تو کیا نہیں جا سکتا کہ انسان پہاڑوں اور غاروں میں جا کے گوشہ نشین ہو جائے اب تو ہمارے لئے ہلاکت ہے جیسی پرسکون زندگی ہم گزار رہے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسی ہستی سے 12 سال تک حساب ہوتا رہا تو ہمارا کیا بنے گا ؟
جواب: واضح رہے کہ جس روایت میں یہ مضمون بیان کیا جاتا ہے کہ اگر کسی کے پاس تین دن سے زیادہ کا کھانا ہو تو وہ "بھاری بوجھ والوں" میں شمار ہوگا، وہ شریعت کا کوئی عمومی اور قطعی حکم نہیں ہے، بلکہ محدّثین کے نزدیک اس مفہوم کی روایات یا تو ضعیف ہیں یا ان سےکلی قاعدہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کی ضروری خوراک محفوظ فرمایا کرتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری حدیث نمبر: 2904 میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو نضیر کی زمین کی پیداوار فروخت فرماتے اور اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا غلہ محفوظ فرما لیتے تھے، لہٰذا اپنے اہل و عیال کی ضرورت کے مطابق سال بھر کا راشن یا گندم خرید کر محفوظ کرنا شرعاً جائز ہے اور اسے گناہ یا آخرت کا بوجھ قرار دینا درست نہیں۔
اسی طرح پنکھا، بستر، مناسب گھر، ٹھنڈی چھت اور دیگر جائز سہولیات کا استعمال بھی شریعت میں ممنوع نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عطا کردہ پاکیزہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ ان میں اسراف، تکبّر اور حرام کمائی شامل نہ ہو، البتہ احتکار، یعنی لوگوں کی ضرورت کے وقت سامان روک کر مہنگا فروخت کرنے کے لیے ذخیرہ کرنا ناجائز ہے، جبکہ گھریلو استعمال کے لیے ذخیرہ کرنا جائز ہے۔
نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت کہ ان سے بارہ سال تک حساب لیا گیا، مستند کتبِ حدیث میں کسی صحیح یا معتبر سند سے ثابت نہیں، اس لیے اس پر اعتماد کرنا درست نہیں، خصوصاً جبکہ وہ عشرۂ مبشرہ میں شامل ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمائی، لہٰذا ایسی غیر ثابت روایات کی وجہ سے مایوس یا خوف زدہ ہونے کے بجائے مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرے، فرائض و واجبات کی پابندی کرے، حلال و حرام کی تمیز قائم رکھے اور دنیا کو اپنے دل میں جگہ نہ دے، کیونکہ اصل زہد یہی ہے کہ اگر دنیا ہاتھ میں ہوتو دل میں نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*المعجم الأوسط (5/ 107، دار الحرمين - القاهرة)*
نا الحارث بن النعمان قال: سمعت أنسا، يقول: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما، وهو آخذ بيد أبي ذر، فقال: «يا أبا ذر، أعلمت أن بين أيدينا عقبة كؤودا، لا يصعدها إلا المخفون؟» فقال رجل: يا رسول الله، أمن المخفين أنا أم من المثقلين؟ قال: «عندك طعام يوم؟» قال: نعم. «وطعام غد؟» قال: نعم. «وطعام بعد غد؟» قال: لا قال: «لو كان عندك طعام ثلاث لكنت من المثقلين»
*مسند أحمد ط الرسالة (35/ 329، مؤسسة الرسالة)*
وفي الباب عن أنس عند الطبراني في "الأوسط" (4806) ولفظه: خرج رسولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوماً وهو آخذ بيد أبي ذر فقال: "يا أبا ذر، أعلمت أن بين أيدينا عَقبةً كَؤُوداً لا يصعدها إلا المُخِفُّونَ" فقال رجل: يا رسول الله: أمن المُخِفِّينَ أنا أم من المثقلين؟ قال: "عندك طعام يوم" قال: نعم، وطعام غدٍ، قال: "وطعام بعد غدٍ؟ " قال: لا. قال: "لو كان عندك طعام ثلاث لكنت من المثقلين". وإسناده ضعيف.
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث 2904)*
عن عمر رضي الله عنه، قال: كانت أموال بني النضير مما أفاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم، مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل، ولا ركاب، «فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم [ص:39] خاصة، وكان ينفق على أهله نفقة سنته، ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع عدة في سبيل الله»
*صحيح البخاري؛ (7/ 63، رقم الحدیث 5357، طدار طوق النجاة)*
عن ابن عيينة، قال: قال لي معمر، قال لي الثوري: هل سمعت في الرجل يجمع لأهله قوت سنتهم أو بعض السنة؟ قال معمر: فلم يحضرني، ثم ذكرت حديثا حدثناه ابن شهاب الزهري، عن مالك بن أوس، عن عمر رضي الله عنه: «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبيع نخل بني النضير، ويحبس لأهله قوت سنتهم»
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی