سوال:
السلام علیکم! میں ایک نہایت مشکل صورتِ حال کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں، جس کا میں کئی ماہ سے سامنا کر رہی ہوں۔
میری شادی کے بعد میرے شوہر اور میں نے صرف اپنے لیے کچھ نجی ذاتی ویڈیوز بنائی تھیں، یہ ویڈیوز ہماری ازدواجی زندگی کے دوران بنائی گئی تھیں اور انہیں کسی کے ساتھ شیئر، اپ لوڈ یا کسی کو دکھانے کا بالکل ارادہ نہیں تھا، بعد میں ہم نے ایسی ویڈیوز بنانا بھی چھوڑ دیا۔
ہماری شادی کے تقریباً ڈھائی سال بعد جب میں حاملہ ہوئی، میرے شوہر کا فون ہیک ہوگیا اور کسی طرح یہ نجی ویڈیوز لیک ہوگئیں، اس کے بعد سے کوئی شخص مسلسل میری نجی اور ازدواجی ویڈیوز میری اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر رہا ہے، میں مسلسل ان کی رپورٹ کرتی ہوں اور بہت سی ویڈیوز ہٹا بھی دی جاتی ہیں، لیکن نئے اکاؤنٹس بنا کر دوبارہ ویڈیوز اپ لوڈ کردی جاتی ہیں، یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے اور صورتِ حال مزید خراب ہوتی محسوس ہورہی ہے، اس کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے اور میرے خاندان اور ان کی عزت بھی متاثر ہوئی ہے، میں اس وقت حاملہ بھی ہوں، جس کی وجہ سے یہ صورتِ حال میرے لیے مزید تکلیف دہ اور پریشان کن ہوگئی ہے۔
مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے شدید تشویش لاحق ہوگئی ہے، میں بار بار سوچتی ہوں کہ کیا میاں بیوی کا آپس میں ایسی نجی ویڈیوز بنانا گناہ تھا؟ کیا اس وقت پیش آنے والی یہ تکلیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی گناہ کی سزا ہے یا یہ ایک آزمائش ہے؟ میں نے اس واقعے کے بعد خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کی ہے، اور حال ہی میں عمرہ بھی ادا کیا ہے جہاں میں نے سچے دل سے توبہ اور دعا کی۔ میں پابندی سے نماز پڑھتی ہوں، دعا کرتی ہوں، تہجد ادا کرتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں، لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ مسلسل جاری ہے۔
میں قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہوں:
1) کیا میاں بیوی کا باہمی رضامندی سے صرف اپنے لیے نجی ازدواجی ویڈیوز بنانا گناہ ہے، جبکہ انہیں کسی کو دکھانے یا شیئر کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو؟
2) اگر ایسی ویڈیوز بنانا غلطی تھی تو کیا سچی توبہ کرنے سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے؟
3)چونکہ یہ ویڈیوز بعد میں ہیکنگ کے ذریعے چوری ہوگئیں اور اب میری اجازت کے بغیر پھیلائی جارہی ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا دی جارہی ہے، یا یہ کسی آزمائش یا گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بھی ہوسکتا ہے؟
4) میں کیسے جان سکتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرمالی ہے؟
5)ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں ہورہیں، حالانکہ میں مسلسل اللہ تعالیٰ سے اس تکلیف کو ختم کرنے کی دعا کر رہی ہوں؟
6)جب کوئی شخص مجھ پر ظلم کرتے ہوئے میری اجازت کے بغیر میری نجی ازدواجی ویڈیوز بار بار پھیلا رہا ہو تو مجھے اسلامی طور پر کیا اقدام کرنا چاہیے؟
7) اس مشکل وقت میں مجھے کون سی دعائیں اور اعمال جاری رکھنے چاہییں؟
میں حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اور شدید ذہنی اذیت اور خوف میں مبتلا ہوں۔ مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی اور اطمینان کی ضرورت ہے، نہ کہ کسی قسم کے طعن یا ملامت کی۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں میاں بیوی کا اپنے ازدواجی عمل کی ویڈیوز اپنے لیے بنانا بھی بالکل غیر مناسب اور سراسر حیا کے خلاف عمل تھا، اس لیے اس سے توبہ کرنا اور آئندہ اس سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے، تاہم آپ کی ایسی غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کی عزت و آبرو کو مجروح کرے اور انہیں معاشرے میں رسوا کرے، کسی مسلمان کی پردہ دری کرنے پر حدیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ جل شانہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، جو شخص کسی مسلمان کی پردہ دری کرتا ہے، اللہ جل شانہ اس کی پردہ دری فرماتا ہے حتی کہ گھر بیٹھے اس کو رسوا کر دیتا ہے۔" (سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر:2546)
لہٰذا جس شخص نے یہ عمل کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے اور حتی الامکان پھیلائی گئی ویڈیوز کو ہٹانے کی کوشش کرے۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب سے دیئے جارہے ہیں:
(1) جی ہاں! میاں بیوی کا اپنے ازدواجی عمل کی ویڈیو بنانا غیر مناسب اور حیا کے خلاف عمل ہے، بالخصوص موجودہ دور میں جبکہ موبائل وغیرہ میں محفوظ کی گئی کوئی بھی چیز افشا ہونے کے خطرے سے محفوظ نہیں، اس لیے ایسی ویڈیوز بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(2) جی ہاں! دل سے سچی توبہ کرنے سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے، لہٰذا سچی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
(3) انسان کی زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیش آتے ہیں جن سے وہ دل برداشتہ اور پریشان ہوجاتا ہے، تاہم ایسے حالات کو اپنے لیے اصلاح اور رجوع الی اللہ کا ذریعہ بنانا چاہیے، تاکہ انسان اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق حاصل کرے، آئندہ ان سے بچے اور اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہونے کی کوشش کرے۔
(4) یقینی طور پر یہ جاننا تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کی توبہ قبول فرمائی ہے یا نہیں، البتہ سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس کی قبولیت کی پوری امید رکھنی چاہیے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: "میں اپنے بندے کے میرے بارے میں گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں۔"(صحیح البخاری، حدیث نمبر:7505)
لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں اور یقین رکھیں کہ ان شاء اللہ آپ کی توبہ قبول ہو چکی ہوگی۔
(5) ان شاء اللہ! آپ کی یہ تکلیف بھی ختم ہوجائے گی، بشرطیکہ آپ خود کو مایوسی سے نکالیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں اور صبر و استقامت سے کام لیں۔
(6) جی ہاں! جس شخص نے آپ کی نجی ویڈیوز لیک کی ہیں اور انہیں پھیلا کر آپ کو معاشرے میں رسوا کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنا آپ کا حق ہے، لہٰذا اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کرسکتے ہیں۔
(7) ان مشکل حالات میں صبر و استقامت اختیار کریں، اللہ تعالیٰ سے کثرت سے دعا کریں اور " حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا" کا اہتمام کریں، نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد پر کامل بھروسہ رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*صحیح البخاری:(رقم الحدیث: 9)*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ.»
*سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 4876)*
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةَ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ.
*سنن ابن ماجہ: (رقم الحدیث: 2546)*
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَشَفَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، كَشَفَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ بِهَا فِي بَيْتِهِ.
*صحیح البخاری: (رقم الحدیث:7505)*
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي.
*سنن الترمذی:(رقم الحدیث:2431)*
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْإِذْنَ مَتَى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَأَنَّ ذَلِكَ ثَقُلَ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی