resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: کمپنی کا کوئی کام کروانے کے لیے رشوت دینے کا حکم

(60498-No)

سوال: السلام علیکم! میں ایک ایسے مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں جس کا ہمیں بعض اوقات دفاتر میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کسی کمپنی کی نمائندگی کر رہے ہوں اور کسی کام کے سلسلے میں کوئی سرکاری اہلکار یا دوسرا شخص کام کروانے کے لیے ہم سے رشوت کے طور پر رقم طلب کرے، اور ہم کمپنی کی طرف سے وہ رقم ادا کردیں، تو اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟
اس صورت میں کیا رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا، دونوں گناہ گار اور رشوت کے بارے میں احادیث میں وارد وعید کے مستحق ہوں گے؟ نیز اگر رقم دینے والا کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت اس لیے رقم دینے پر مجبور ہو کہ اپنا جائز حق حاصل کرسکے یا کسی ظلم و ناانصافی سے بچ سکے، تو کیا ایسی صورت میں شرعی حکم مختلف ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، چنانچہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں، لہذٰا پوچھی گئی صورت میں اصولی طور پر کمپنی کا کوئی کام کروانے کے لیے رشوت دینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر کمپنی کا کوئی جائز کام تمام جائز ذرائع و تدابير استعمال کرنے کے باوجود بھی بغیر رشوت دیے نہیں ہو رہا ہو تو اس صورت میں اپنے حق کی وصولی اور دفعِ ظلم کے لیے کچھ رقم دے کر کام کروانے کی گنجائش ہوگی، تاہم رشوت دینے پر اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کرتا رہے، البتہ رشوت لینے والا ہر صورت میں گنہگار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*سنن أبي داؤد: (433/5، رقم الحديث: 3580، ط: دار الرسالة العالمية)*
عن أبي سلمةعن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله- صلى الله عليه وسلم- الراشي والمرتشي .

*رد المحتار: (362/5، ط: سعید)*
الرشوۃ علی اربعۃ اقسام ....الرابع: ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علی نفسہ أو مالہ حلال للدافع حرام علی الآخذ۔

*الدر المختار: (423/6، ط: سعید)*
لا بأس بالرشوة إذا خاف على دینہ۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things