resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: فجر کے بعد سونے کا حکم اور مروی احادیث کی شرعی و حدیثی حیثیت

(59427-No)

سوال: مفتی صاحب! فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سونے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فجر کے بعد سونا ثابت ہے، جبکہ بعض بزرگوں نے فجر کے بعد سونے کو ناجائز یا حرام قرار دیا ہے۔ کیا ان بزرگوں نے یہ حکم اس وجہ سے دیا کہ انہیں خود فجر کے بعد نیند نہیں آتی تھی؟ نیز فجر کے بعد سونے کی ممانعت کے بارے میں جو احادیث بیان کی جاتی ہیں، ان میں سے بعض کو ضعیف کہا گیا ہے۔ کیا ضعیف احادیث کی بنیاد پر کسی کام کو حرام یا ناجائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی شرعی حیثیت قرآن و سنت اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں واضح فرمائیں۔

جواب: جمہور فقہاء، یعنی احناف، شوافع اور حنابلہ رحمہم اللہ کے نزدیک فجر کی نماز کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک سونا مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے، حرام نہیں؛ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ وقت ذکر، تلاوت، تسبیح اور دیگر عبادات کے لیے بابرکت وقت ہے، لہٰذا سستی اور غفلت کی وجہ سے اسے نیند میں گزارنا خلافِ اولیٰ ہے، تاہم چونکہ یہ کراہتِ تنزیہی ہے، اس لیے اگر کسی عذر مثلاً رات کو جاگنے، بیماری، تھکن یا کسی شدید ضرورت کی وجہ سے کوئی شخص اس وقت سو جائے تو وہ گنہگار نہیں ہوگا اور یہ عمل ناجائز یا حرام ہرگز نہیں ہے۔
صحابہ کرامؓ اور امّہات المؤمنینؓ، خصوصاً حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ سے فجر کے بعد سونے یا لیٹنے کے بعض آثار بھی منقول ہیں، جن کی محدّثین و فقہاء نے یہ توجیہ کی ہے کہ اکابر صحابہؓ اور امہات المؤمنینؓ نے کبھی کبھار طویل رات کی عبادت، تھکن یا کسی ضرورت کے باعث ایسا کیا تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ یہ فعل حرام نہیں بلکہ اس کا جواز موجود ہے؛ البتہ کسی مباح یا مکروہ عمل کا کبھی کبھار کیا جانا اس کے جواز کی دلیل تو ہو سکتا ہے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسے مستقل معمول بنا لینا افضل یا سنّتِ مستمرہ ہے۔
جہاں تک فجر کے بعد سونے کی ممانعت کے بارے میں وارد احادیث کا تعلق ہے تو محدّثین نے تمام روایات کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا؛ بعض مرفوع روایات سند کے اعتبار سے ضعیف یا مرسل ہیں، اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اس باب میں بعض روایات ضعیف ہیں، لیکن اس بنیاد پر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس مسئلے میں ہر قسم کی ممانعت یا کراہت کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔
اصولی طور پر ضعیف حدیث سے مستقل طور پر حلال و حرام کا قطعی حکم ثابت نہیں کیا جاتا، لیکن یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جمہور نے فجر کے بعد سونے کو حرام یا قطعی ناجائز قرار ہی نہیں دیا بلکہ مکروہِ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ کہا ہے، اور اس وقت کی برکت، ذکر و عبادت کی ترغیب اور فضائلِ اوقات سے متعلق روایات و آثار اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس وقت کو عبادت میں گزارنا سونے سے بہتر ہے۔
اسی طرح یہ کہنا کہ "بعض بزرگوں نے فجر کے بعد سونے کو ناجائز یا حرام اس لیے قرار دیا کہ انہیں نیند نہیں آتی تھی،" درست نہیں؛ یہ ایک طرح کی بے ادبی ہے۔ مزید یہ کہ کسی معتبر مجتہد یا فقیہ کی طرف یہ بات منسوب کرنا بھی درست نہیں کہ انہوں نے فجر کے بعد سونے کو قطعی حرام قرار دیا؛ فقہی اصطلاح میں جب اسے مکروہِ تنزیہی یا خلافِ اولیٰ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب حرمت نہیں ہوتا۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ فجر کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک سونا حرام یا ناجائز نہیں بلکہ جمہور کے نزدیک مکروہِ تنزیہی اور خلافِ اولیٰ ہے، تاکہ انسان اس بابرکت وقت کی عبادت، ذکر اور دیگر خیرات سے محروم نہ ہو، البتہ عذر یا ضرورت کی حالت میں سونے پر کوئی گناہ نہیں، امّہات المؤمنینؓ اور بعض صحابہ کرامؓ کا عمل اس کے جواز کی دلیل ہے، جبکہ اس وقت کو عبادت میں گزارنے کی فضیلت احادیث اور آثار سے ثابت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مصنف ابن أبي شيبة: (رقم الحدیث: 25449، 223/5، ط: مكتبة الرشد - الرياض)
حدثنا سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن عائشة أنها كانت تَصَبَّح.

مصنف ابن أبي شيبة: (رقم الحدیث: 25450، 222/5، ط: مكتبة الرشد - الرياض)
حدثنا شبابة عن شعبة عن عبيدالله بن عمر عن عبدالله بن الشماس قال: أتيت أم سلمة فوجدتها نائمة -يعني: بعد الصبح.

شعب الایمان: (فصل في النوم الذي نعمة الله، رقم الحدیث: 4405)
عن فاطمة بنت محمد صلی اللہ علیه وسلم قالت: مرَّ بي رسول اللہ -صلی اللہ علیه وسلم- وأنا مضطجعة متصبحة، فحرکني برجله ثم قال: یا بنیّة قومي واشھدي رزق ربّک، ولا تکوني من الغافلین؛ فإن اللہ یقسم أرزاق الناس ما بین طلوع الفجر إلی طلوع الشمس“

الفتاوی الھندیة: (376/5، ط: دار الفکر)
ويكره النوم في أول النهار وفيما بين المغرب والعشاء.

سنن الترمذي ت بشار (رقم الحدیث: 1212، 508/2، ط: دار الغرب الإسلامي – بيروت)
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الغَامِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا.

صحيح مسلم: (رقم الحدیث: 286، 463/1، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت)
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، «كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things