resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حکومتی جائز قوانین کی پاسداری نیز حکومت کی طرف سے متعین کردہ نرخ (controlled Price) سے زائد قیمت پر فروخت کرنا اور مجبوری کی صورت میں رشوت دینا

(63616-No)

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ محمد عبداللہ کراچی میں حلویات (مٹھائی و دیگر خوراک) کی تیاری اور فروخت کے کاروبار سے منسلک ہے، ہمارا یہ کاروبار شروع میں ایک چھوٹی سی دکان کی شکل میں تھا جہاں چند ملازمین کام کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وقت کے ساتھ ساتھ کام میں توسع آتی گئی اور اب الحمدللہ یہ کاروبار ایک بڑی فیکٹری اور ادارے کا روپ دھار چکا ہے، جس میں متعدد شعبہ جات (پروڈکشن لائن، پروکیورمنٹ، اکاؤنٹنگ اور ڈسٹری بیوشن وغیرہ) قائم ہیں اور ہزاروں ملازمین وابستہ ہیں، اس عملی و صنعتی سفر کے دوران ہمیں درج ذیل تین بنیادی مسائل کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے:
1) حکومتی لیبر قوانین، مینیمم ویج اور انسپکٹرز کی بدمعاشی/رشوت کا معاملہ:
حکومتِ وقت (بالخصوص صوبہ سندھ کے فیکٹری ایکٹ و لیبر لاز) نے صنعتی و تجارتی اداروں پر کچھ قوانین نافذ کر رکھے ہیں، مثلاً: ہر ملازم کو 3 ماہ کے پروبیشن پیریڈ کے بعد لازمی طور پر مستقل (Permanent) کرنا اور باضابطہ اپوائنٹمنٹ لیٹر دینا، ملازمین کو ریٹائرمنٹ یا نوکری چھوڑنے پر پروویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی جیسی مراعات فراہم کرنا، حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wage) یعنی موجودہ سندھ حکومت کے قانون کے مطابق 43,000 روپے ماہانہ الزاماً ادا کرنا۔
مارکیٹ کی عملی صورتِ حال اور انسپکٹرز کا رویہ:
تحقیقِ حال یہ ہے کہ مارکیٹ میں مختلف قسم کے ملازمین (کچے/ڈیلی ویجز، جز وقتی، غیر ہنرمند یا ابتدائی سطح کے مزدور) آتے ہیں جو اپنی مرضی اور باہمی رضامندی سے حکومتی مقرر کردہ حد (مثلاً 43,000 روپے) سے کم اجرت پر یا زبانی معاہدے کے تحت کام کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، آجر اور اجیر دونوں آپس کی رضامندی سے اجرت اور شرائط طے کرتے ہیں۔
سب سے تلخ اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر ان تمام حکومتی قوانین کی مکمل پاسداری بھی کر لیں، تمام ملازمین کو 43,000 روپے تنخواہ، سوشل سیکیورٹی، گریجویٹی اور مستقل مزاجی کا حق بھی دے دیں، تب بھی لیبر ڈیپارٹمنٹ، ای او بی آئی (EOBI) سوشل سیکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے انسپکٹرز فیکٹری پر آ کر بلا وجہ کے اعتراضات، نکتہ چینی اور دھمکیاں دیتے ہیں اور بلاجواز بھتہ و رشوت طلب کرتے ہیں۔ نہ دینے کی صورت میں فیکٹری کو سِیل (Seal) کرنے، بھاری چالان بنانے اور کاروبار کو معطل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یعنی قانون پر پورا اترنے کے باوجود انسپکٹرز کے شر اور بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے رشوت دینا ایک جبر اور مجبوری بنا دیا جاتا ہے۔
سوالات:
الف) کیا آجر اور اجیر کے درمیان باہمی رضامندی سے طے شدہ ایسا معاہدہ جو حکومتی مینیمم ویج (43,000 روپے) یا لیبر قوانین سے کم پر ہو، شرعاً جائز اور نافذ العمل ہے؟
ب) کیا حکومت کے بنائے ہوئے ان لیبر قوانین کی پاسداری کرنا فیکٹری مالکان پر شرعاً دیانتاً لازم ہے؟
ج) جب صورتِ حال یہ ہو کہ قانون کی مکمل پاسداری کے باوجود سرکاری انسپکٹرز کی بدمعاشی اور بلیک میلنگ ختم نہ ہوتی ہو تو اپنے جائز کاروبار، عزت اور املاک کو ان کے شر اور ناجائز کارروائیوں سے بچانے کے لیے رقم (رشوت/بھتہ) دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ صورت "دفعِ ضرر" (نقصان سے بچاؤ) کے زمرے میں آ کر مالک کے لیے معذور شمار ہوگی؟
2) حکومتی نرخ نامہ (پرائس کنٹرول/تسعیر) سے زیادہ پر فروخت:
حکومت بعض اوقات عمومی اشیائے خور و نوش (مثلاً: ڈبل روٹی، دودھ، روٹی وغیرہ) کے لیے ایک مخصوص حد یا ریٹ (Control Price) مقرر کر دیتی ہے۔
مارکیٹ کی عملی صورتِ حال:
ہمارے پاس کسٹمر آتا ہے اور خام مال (Raw Material) کی گرانی، اعلیٰ کوالٹی اور پیداواری اخراجات کے باعث ہم اسے بتاتے ہیں کہ ہم یہ چیز (مثلاً ڈبل روٹی) حکومتی ریٹ (100 روپے) کے بجائے 120 روپے میں دیں گے، خریدار اپنی مکمل رضامندی، خوش دلی اور بغیر کسی اجبار یا دھوکے کے 120 روپے دینے پر تیار ہو جاتا ہے اور ہم اسے وہ چیز فروخت کر دیتے ہیں۔
سوال:
کیا خریدار اور بائع (Seller) کی باہمی رضامندی سے حکومتی نرخ نامے سے زیادہ قیمت پر سامان فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا اضافی منافع شرعاً حلال و طیب ہے یا اس میں کوئی کراہت یا حرمت ہے؟
امید ہے کہ مارکیٹ کے عملی احوال، آجر و اجیر کے باہمی تعلقات، انسپکٹرز کے رویے اور حکومتی قوانین کے تمام پہلوؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مفتیانِ عظام تفصیلی و مدلل شرعی جواب سے نوازیں گے۔

جواب: (1-الف،ب) واضح رہے کہ ایسے ملکی قوانین جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے منافی نہ ہوں، اور ملک و ملت کی مصلحت پر مبنی ہوں تو ایسے جائز قوانین پر عمل کرنا شرعا بھی لازم ہے، لہذا جن اداروں پر ملازمین کی کم از کم تنخواہ کے حکومتی قانون کا اطلاق ہوتا ہو، ان کے لیے اس قانون پر عمل کرنا شرعاً بھی لازم ہوگا، تاہم اگر کوئی ادارہ ملازم کے ساتھ اس کی رضامندی سے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تنخواہ سے کم مقدار پر معاہدہ کرلیتا ہے تو ایسے معاہدہ کو فاسد نہیں کہا جاسکتا، لیکن ملکی جائز قانون کی خلاف ورزی سے بچنا بہرحال ضروری ہے۔

(ج) واضح رہے کہ رشوت کے بارے میں احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ رشوت کا لین دین ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر آپ اپنے کام سے متلعقہ قانونی تقاضے (Legal Requirements) پورے کرتے ہیں، اور رشوت دیے بغیر اپنا کام کرانے کی ممکنہ حد تک کوشش بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود کچھ رشوت دیے بغیر کام نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اپنا جائز حق وصول کرنے یا دفع ضرر کی خاطر اگر آپ کو کچھ رقم دینی پڑتی ہے تو امید ہے کہ دینے پر اس کا گناہ نہیں ہوگا، لیکن لینے والے کے حق میں وہ رقم بہرحال رشوت ہوگی، جسے وصول کرنا اس کے لیے ناجائز اور حرام ہے۔
(2) اگر حکومت نے کسی چیز کے نرخ متعین کردیے ہوں تو اس چیز کو متعین کردہ نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی شمار ہوگی، لہذا ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص متعین کردہ نرخ سے زائد قیمت پر کوئی چیز فروخت کردے تو اس سے حاصل شدہ آمدنی کو حرام نہیں کہا جاسکتا، لیکن حکومتی جائز قوانین کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*تکملة فتح الملهم: (323/3، ط: أشرفیه)*
ان المسلم یجب علیه أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة؛ فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرته، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابه؛ لأن اللہ سبحانه وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]، فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة الله ورسوله، فلما أفردھم الله سبحانه بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة.

*درر الحكام: (1/57، المقالة الثانیة فی بیان قواعد الکلیة، ط: دار الجیل)*
«(المادة ٥٨) :التصرف على الرغبة منوط بالمصلحة.هذه القاعدة مأخوذة من قاعدة "تصرف القاضي فيما له فعله من أموال الناس والأوقاف مقيد بالمصلحة " أي أن تصرف الراعي في أمور الرعية يجب أن يكون مبنيا على المصلحة، وما لم يكن كذلك لا يكون صحيحا. والرعية هنا: هي عموم الناس الذين هم تحت ولاية الولي.....والحاصل يجب أن يكون تصرف السلطان والقاضي والوالي والوصي والمتولي والولي مقرونا بالمصلحة وإلا فهو غير صحيح ولا جائز."

*سنن الترمذی: (16/3، ط: دار الغرب الاسلامی)*
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالمُرْتَشِيَ.

*رد المحتار: (362/5، ط: دار الفکر)*
الرِّشْوَةُ بِالْكَسْرِ مَا يُعْطِيهِ الشَّخْصُ الْحَاكِمَ وَغَيْرَهُ لِيَحْكُمَ لَهُ أَوْ يَحْمِلَهُ عَلَى مَا يُرِيدُ.

*و فیہ ایضاً: (423/6- 424، ط: دار الفکر)*
(قَوْلُهُ إذَا خَافَ عَلَى دِينِهِ) عِبَارَةُ الْمُجْتَبَى لِمَنْ يَخَافُ، وَفِيهِ أَيْضًا دَفْعُ الْمَالِ لِلسُّلْطَانِ الْجَائِرِ لِدَفْعِ الظُّلْمِ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَلِاسْتِخْرَاجِ حَقٍّ لَهُ لَيْسَ بِرِشْوَةٍ يَعْنِي فِي حَقِّ الدَّافِعِ اه۔

*رد المحتار: (172/2، ط: دار الفکر)*
طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اه

*و فیه ایضاً: (460/6، ط: دار الفکر)*
وفي شرح الجواهر: تجب إطاعته فيما أباحه الشرع، وهو ما يعود نفعه على العامة

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things