سوال:
ایک شخص نیا موبائل فون خریدنے کے بعد پہلے دن سے ہی اپنے موبائل کی تمام کالز کی ریکارڈنگ کا نظام آن رکھتا ہے اور آج تک مسلسل کال ریکارڈنگ کرتا آ رہا ہے۔ تقریباً اس کے تمام قریبی دوستوں کو بھی معلوم ہے کہ اس کے موبائل میں کال ریکارڈنگ پہلے دن سے فعال ہے، یعنی وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کی اس شخص کے ساتھ ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہو سکتی ہے۔
اس کال ریکارڈنگ کا مقصد کسی شخص کو تنگ کرنا، زچ کرنا، بدنام کرنا یا ذلیل کرنا نہیں ہے، بلکہ صرف یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی معاملے میں کوئی شخص جھوٹ بولے، اپنی کہی ہوئی بات سے انکار کرے، دھوکہ دہی کرے یا کسی غلط بات کا مرتکب ہو خصوصاً دوستوں یا باہمی معاملات میں تو ضرورت کے وقت کال کی ریکارڈنگ بطور ثبوت اسے سنائی جا سکے۔
اس ضمن میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس شخص کا محض احتیاط اور بوقتِ ضرورت ثبوت محفوظ رکھنے کی غرض سے اپنی تمام فون کالز کی خودکار ریکارڈنگ کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجائز، جبکہ اس کے اکثر دوستوں کو پہلے سے معلوم بھی ہے کہ اس کے موبائل میں کال ریکارڈنگ ہمیشہ آن رہتی ہے؟
نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ اب اس شخص کو آئندہ کال ریکارڈنگ جاری رکھنی چاہیے یا کال ریکارڈنگ کا نظام بند کر دینا چاہیے؟ اگر ریکارڈنگ کرنا جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ جائز ہے، اور اگر ناجائز ہے تو کیا اسے فوراً یہ عمل چھوڑ دینا چاہیے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں محض احتیاط کے نام پر ہر کال کو مستقل ریکارڈ کرتے رہنا، جبکہ کسی خاص ضرورت کا سامنا نہ ہو، خواہ مخواہ وہمی، حد سے زیادہ حساس ہونے اور غیر ضروری احتیاط کی علامت ہے، احادیث مبارکہ میں مجالس کو "امانت " کہا گیا ہے، جس میں خیانت جائز نہیں ہے، اس لیے عمومی طور پر کال ریکارڈنگ کا نظام فعّال رکھنے کے بجائے بند رکھنا چاہیے۔
البتہ کسی خاص معاملے میں اپنے حق کے تحفظ، دھوکے سے بچاؤ یا ضروری ثبوت محفوظ رکھنے کی حقیقی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت ریکارڈنگ کی گنجائش ہے۔
اسی طرح اگر اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ہر کال کرنے والے کو ابتدا ہی میں بتادیا جائے کہ آپ کی کال ریکارڈ ہورہی ہے، جیسے کہ مختلف بینکوں اور موبائل کمپنیوں کو کال کرتے ہوئے پہلے سے وضاحت کردی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کال ریکارڈ کرنے کی گنجائش ہے۔
تاہم ان دونوں صورتوں میں بھی ریکارڈنگ صرف متعلقہ مقصد کے لیے استعمال کی جائے، غیر متعلقہ لوگوں کو نہ سنائی جائے اور کسی کی تذلیل یا پردہ دری مقصود نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الكريم: (الحجرات، الآية: ١٢)*
﴿وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۔۔۔ ●﴾
*سنن أبي داود: (7/ 231، رقم الحديث: 4868-4869، ط: دار الرسالة العالمية)*
(4868) - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا ابن أبي ذئب، عن عبد الرحمن بن عطاء، عن عبد الملك بن جابر بن عتيك، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي أمانة».
(4869) - حدثنا أحمد بن صالح، قال: قرأت على عبد الله بن نافع، أخبرني ابن أبي ذئب، عن ابن أخي جابر بن عبد الله، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المجالس بالأمانة إلا ثلاثة مجالس: سفك دم حرام، أو فرج حرام، أو اقتطاع مال بغير حق».
*سنن ابن ماجه: (3/ 432، رقم الحديث: 2341، ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن جابر الجعفي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار».
*مسند أحمد: (14/ 199، رقم الحديث: 8504، ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا عفان، حدثنا وهيب، حدثنا عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، لا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا تنافسوا، وكونوا عباد الله إخوانا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی