resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرحومہ ساس کے پاس بطور امانت یا قرض رکھوائے ہوئے زیورات کا حکم

(60489-No)

سوال: اسلامی شریعت کے مطابق بہو کا سونا، خواہ وہ مہر میں ملا ہو، میکے سے ملا ہو یا سسرال والوں نے اسے مالک بنا کر دیا ہو، مکمل طور پر بہو کی ملکیت ہوتا ہے۔
اگر ساس نے وہ سونا بہو سے قرض یا امانت کے طور پر لیا تھا تو ساس کے ذمہ لازم تھا کہ اپنی زندگی میں وہ سونا بہو کو واپس کر دیتی، اب جبکہ ساس کا انتقال ہوچکا ہے، اس صورت میں اس سونے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ قرض یا امانت کے طور پر لی ہوئی چیز کی واپسی انسان پر اپنی زندگی میں بھی لازم ہوتی ہے اور اگر خدا نخواستہ انسان قرض یا امانت ادا کیے بغیر فوت ہو جائے تو یہ قرض اور امانت اس کے مال سے ادا کی جائے گی۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتاً بہو نے ساس کو سونے کا مالک نہیں بنایا تھا بلکہ بطور قرض یا امانت سونا ان کے قبضے میں دیا تھا تو یہ مذکورہ سونا بہو کا حق ہے، ساس کے انتقال کے بعد اُس کے متروکہ مال میں سے مذکورہ سونا اور اگر سونا نہ ہو تو اس کی قیمت بہو کو واپس کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار: (759/6، ط: دارالفکر)*
(يَبْدَأُ مِنْ تَرِكَةِ الْمَيِّتِ الْخَالِيَةِ عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنِهَا كَالرَّهْنِ وَالْعَبْدِ الْجَانِي) وَالْمَأْذُونِ الْمَدْيُونِ وَالْمَبِيعِ الْمَحْبُوسِ بِالثَّمَنِ وَالدَّارِ الْمُسْتَأْجَرَةِ وَإِنَّمَا قُدِّمَتْ عَلَى التَّكْفِينِ لِتَعَلُّقِهَا بِالْمَالِ قَبْلَ صَيْرُورَتِهِ تَرِكَةً۔

*الھندیۃ: (447/6، ط: دار الفکر)*
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things