resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بغیر سر والی ڈیجیٹل ویڈیوز بنانے کا حکم

(63651-No)

سوال: السلام علیکم! مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بنائی گئی 3D ویڈیو کے بارے میں سوال ہے۔ فرض کریں کہ کیمرے میں صرف جسم کا نچلا یا درمیانی حصہ، یعنی سینے کے نیچے سے کمر تک، ٹانگیں اور ہاتھ وغیرہ نظر آتے ہیں، جبکہ سر، چہرہ، گردن اور جسم کا اوپری حصہ کیمرے کے فریم میں شامل نہیں ہوتا۔
اہم بات یہ ہے کہ سر یا چہرہ کاٹا ہوا نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف کیمرے کے فریم سے باہر ہوتا ہے، اس لیے دیکھنے والا یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ سر موجود ہے یا نہیں، اور نہ ہی اس کی شکل و صورت نظر آتی ہے۔
ویڈیو میں جسم کے نظر آنے والے حصے ایک زندہ انسان کی طرح قدرتی انداز میں حرکت کرتے ہیں، مثلاً چلنا، بات کرنا، ہاتھوں سے کام کرنا، بیٹھنا اور کھڑا ہونا وغیرہ۔
کیا ایسی AI سے تیار کردہ 3D ویڈیو بھی جاندار کی مکمل تصویر بنانے کے حکم میں شمار ہوگی، جس کا بنانا شرعاً ممنوع ہے؟

جواب: واضح رہے کہ ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے بارے میں ہمارے دور کے محققین علماء کرام کے آراء مختلف ہیں، بعض حضرات کے مطابق ڈیجیٹل تصویر کا حکم بھی عام تصویر والا ہے یعنی اس کا بنانا حرام ہے، جبکہ دیگر بہت سے علماء کرام ڈیجیٹل تصویر کو عکس کہتے ہیں، ان کے ہاں جب تک اس کا پرنٹ نہ لے لیا جائے اس وقت تک ڈیجیٹل تصویر پر عام تصویر کا حکم نہیں لگتا۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر آپ ایسی ویڈیوز بناتے ہیں جن میں سر اور چہرہ بالکل موجود ہی نہیں ہوتا تو یہ حرام تصویر بنانے کے حکم میں نہیں آتا ہے، ایسی ویڈیوز بنانے سے تصویر بنانے کا گناہ نہیں ملے گا، البتہ مذکورہ کام کے جائز ہونے کے لیے صرف اس قدر احتیاط (تصویر نہ بنانا) کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ یہ ویڈیوز دیگر شرعی منکرات (مثلاً: میوزک وغیرہ) سے بھی پاک ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 5950، ط: دار طوق النجاة)*
عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون"

*الدر المختار: (648/1، ط: دارالفکر)*
لَا يُكْرَهُ (لَوْ كَانَتْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ) أَوْ مَحَلَّ جُلُوسِهِ لِأَنَّهَا مُهَانَةٌ (أَوْ فِي يَدِهِ) عِبَارَةُ الشُّمُنِّيِّ بَدَنِهِ لِأَنَّهَا مَسْتُورَةٌ بِثِيَابِهِ (أَوْ عَلَى خَاتَمِهِ) بِنَقْشٍ غَيْرِ مُسْتَبِينٍ. قَالَ فِي الْبَحْرِ وَمُفَادُهُ كَرَاهَةُ الْمُسْتَبِينِ لَا الْمُسْتَتِرِ بِكِيسٍ أَوْ صُرَّةٍ أَوْ ثَوْبٍ آخَرَ، وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ (أَوْ كَانَتْ صَغِيرَةً) لَا تَتَبَيَّنُ تَفَاصِيلُ أَعْضَائِهَا لِلنَّاظِرِ قَائِمًا وَهِيَ عَلَى الْأَرْضِ، ذَكَرَهُ الْحَلَبِيُّ *(أَوْ مَقْطُوعَةَ الرَّأْسِ أَوْ الْوَجْهِ) أَوْ مَمْحُوَّةَ عُضْوٍ لَا تَعِيشُ بِدُونِهِ (أَوْ لِغَيْرِ ذِي رُوحٍ لَا) يُكْرَهُ لِأَنَّهَا لَا تُعْبَدُ*

*فقه البیوع: (325/1، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)‏*
ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا يخلو من محظور شرعي، ‏و عامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج ‏الممنوعة، و إن كان هناك من لا يقصد به ذلك‎.‎‏ فبما أن استعماله في مباح ‏ممكن، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقا، إلا إذا تعين بيعه لمحظور، ‏ولكن نظرا إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية‎.‎‏ وعلى هذا، فينبغي ‏أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة في الحالة الراهنة، إلا إذا هيأ الله سبحانه ‏جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح، والله سبحانه و تعالى أعلم

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things