resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مسجد کے باہر بوسیدہ قرآنِ کریم اوراق کو غیر محفوظ حالت میں رکھنے کا شرعی حکم

(65742-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں ہمارے محلے کی ایک مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تھا، مجھے اس مسجد کے باہر ایک چبوترے پر اکثر کچھ بورے اور دوسری طرف ضعیف قرآن کریم رکھے ہوئے نظر آتے تھے، ایک دفعہ جب میں نے اور کچھ نمازیوں نے ایک بورے کو کھولا تو حیران رہ گئے کہ اس بورے میں کافی تعداد میں قرآن کریم اور دیگر مقدس کتابیں انتہائی خستہ حالت میں موجود تھیں، اندر چوہےبھی تھے۔
ایک نمازی بھائی نے بتایا کہ کئی دفعہ میں نے تیز ہوا چلنے کے سبب قرآن کریم کے اوراق زمین سے اُٹھائے ہیں، میں نے اور کچھ نمازیوں نےمسجد والوں سے یہ شکایت کی تو جواب ملا ہمارے پاس مسجد کے اندر جگہ نہیں ہے، بہرحال یہ سلسلہ کئی سالوں سے ایسا ہی چل رہا ہے، یہ بورے دھوپ ،مٹی اور گاڑیوں کا کالا دھواں لگنے کی وجہ سے جگہ جگہ سے پھٹنے لگے ہیں۔ کئی دفعہ اللہ معاف کرے ان بوروں پر بلیاں بھی گھومتی، بیٹھتی اور پیشاب پاخانہ بھی کرتی دیکھی ہیں، کئی مرتبہ کتے بھی ان پر بیٹھے دیکھے گئے ہیں، ایک بورا کھولا تو اس میں چوہے تھےجو ان بوروں میں گھس کر ان قرآنی اوراق اور دیگر مقدس اوراق کوکتررہے تھے، جس سے قرآن کریم کے اوراق ریزہ ریزہ ہوگئے تھے، کئی مرتبہ نشہ کرنے والےاور کچرا چننے والے بھی ان بوروں سے مقدس اوراق چوری کرکے ردی والے کو فروخت کرتے دیکھے گئے ہیں، تیز ہوائیں چلنے کے سبب قرآن کریم کے مقدس اورا ق کبھی زمین پر تو کبھی گلیوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
محترم مفتی صاحب ! مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا اس طرح مسجد کے باہر قرآن کریم یا وہ بورے جس میں قرآن کریم بھی موجود ہوں باہر رکھ سکتے ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب ہے، اس کی تعظیم و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے، جب قرآنِ کریم کے اوراق بوسیدہ ہوجائیں اور تلاوت کے قابل نہ رہیں تو انہیں ایسی جگہ رکھنا ضروری ہے جہاں ان کی بے حرمتی نہ ہوتی ہو۔
پوچھی گئی صورت میں مسجد کے باہر کھلے ماحول میں بوسیدہ قرآنِ کریم اور دیگر مقدس کتابوں کو ایسے بوریوں میں رکھنا، جہاں بارش، دھوپ، مٹی، جانوروں کے پیشاب و پاخانے، چوہوں اور دیگر اسباب سے ان کی بے حرمتی ہو رہی ہو، شرعاً درست نہیں ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم کے اوراق کا ہوا سے اڑ کر زمین اور گلیوں میں بکھرنا اور ان کا ضائع ہونا بھی بے حرمتی کا سبب ہے، لہٰذا مسجد کی انتظامیہ پر لازم ہے کہ ان مقدس اوراق کی حفاظت کا مناسب انتظام کرے۔
مسجد کے اندر جگہ نہ ہونے کی صورت میں انہیں کسی محفوظ، پاک اور مناسب جگہ پر رکھا جائے، جہاں بارش، دھوپ، جانوروں اور دیگر اسباب سے ان کی بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر یہ اوراق بالکل ناقابلِ استعمال ہوچکے ہوں تو انہیں شرعی طریقے کے مطابق محفوظ طور پر دفن کیا جائے یا کسی مستند ادارے کے ذریعے ان کی بے حرمتی سے بچانے کا انتظام کیا جائے۔
لہٰذا مسجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس معاملے کو معمولی نہ سمجھے، بلکہ فوری طور پر ان مقدس اوراق کی حفاظت کا انتظام کرے اور انہیں اس طرح باہر نہ رکھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 4987، ط: دار طوق النجاۃ)*
حدثنا موسى، حدثنا إبراهيم، حدثنا ابن شهاب، أن أنس بن مالك، حدثه: أن حذيفة بن اليمان، قدم على عثمان وكان يغازي أهل الشأم في فتح أرمينية، وأذربيجان مع أهل العراق، فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة، فقال حذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين، أدرك هذه الأمة، قبل [ص:184] أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى، فأرسل عثمان إلى حفصة: «أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف، ثم نردها إليك»، فأرسلت بها حفصة إلى عثمان، فأمر زيد بن ثابت، وعبد الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف "، وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاثة: «إذا اختلفتم أنتم وزيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش، فإنما نزل بلسانهم» ففعلوا حتى إذا نسخوا الصحف في المصاحف، رد عثمان الصحف إلى حفصة، وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا، وأمر بما سواه من القرآن في كل صحيفة أو مصحف، أن يحرق.

*رد المحتار: (177/1، ط: دار الفکر)*
المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم.

*وفیه أیضاً: (422/6، ط: دار الفکر)*
جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اه. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اه.

*المحیط البرھانی: (321/5، ط: دار الکتب العلمیة)*
ومن أراد دفنه ينبغي أن يلفه بخرقة طاهرة، ويحفر لها حفرة ويلحد ولا يشق؛ لأنه متى شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير واستخفاف بكتاب الله تعالى، وإن شاء غسله بالماء حتى يذهب ما به، وإن شاء وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد المحدثين، ولا تصل إليه النجاسة تعظيماً لكلام الله تعالى، تصغير المصحف حجماً وأن يكتب بقلم دقيق مكروه.

*الھندیة: (323/5، ط: دار الفکر)*
المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب. المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Prohibited & Lawful Things